پاکستانی خبریں

27ویں آئینی ترمیم پر سیاسی اختلافات شدت اختیار کر گئے، تحریک انصاف کی مخالفت، جے یو آئی کا قومی اتفاق رائے کا مشورہ

خلیج اردو
اسلام آباد: وفاقی حکومت کی مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر سیاسی اختلافات سامنے آگئے ہیں۔ تحریک انصاف نے اس ترمیم کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے آئینِ پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرہ قرار دیا ہے، جبکہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اس معاملے پر قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔

تحریک انصاف کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ ابھی 26ویں آئینی ترمیم کے زخم تازہ ہیں اور اب 27ویں ترمیم کی باتیں ہو رہی ہیں۔ 1973ء کا آئین پاکستان کا متفقہ آئین ہے، اس پر کسی کو ہاتھ نہیں ڈالنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھٹو کے جانشین خود اسی آئین کے چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ موجودہ پارلیمان کے پاس کسی بھی آئینی ترمیم کا اخلاقی جواز نہیں۔ ملک کی تمام جمہور پسند قوتوں کو غیر آئینی ترمیم کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔

خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے لیے قومی اتفاق رائے ضروری ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کی ازسرِنو تشکیل کے حوالے سے خیبر پختونخوا کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، لہٰذا بہتر ہوگا کہ حکومت مشاورت کے لیے مجوزہ مسودہ تمام صوبوں کو فراہم کرے۔

جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم جیسے اہم معاملے پر پارلیمان کے اندر تفصیلی مشاورت ہونی چاہیے۔ عوام کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ قانون سازی کے نام پر ان کے حقوق سے متعلق کیا فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہمیشہ کہتی رہی کہ 27ویں ترمیم زیر غور نہیں، مگر اب بلاول بھٹو نے خود عوام کو اس حوالے سے آگاہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ایک سکے کے دو رخ ہیں، جو اپنے مفادات کے لیے ہمیشہ اکٹھی ہو جاتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button