
خلیج اردو
اسلام آباد:آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ فوجی عدالتوں کو آرٹیکل 175 کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آئینی بنچ ہے، لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ سابقہ فیصلوں کو دوبارہ لکھ دیا جائے۔
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ 175 کے پارٹ کو کسی نے چیلنج نہیں کیا۔ جسٹس جمال مندو خیل نے سوال کیا کہ کیا 175 کے علاوہ بھی سویلینز کے ملٹری ٹرائل کی اجازت ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ممنوع جگہوں میں داخل ہونا بھی خلاف ورزی میں آتا ہے، اور اگر کسی جگہ میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی جائے تو کیا اس کا ملٹری ٹرائل کیا جائے گا؟
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ممنوع جگہوں کی تعریف واضح کی جائے، جبکہ جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ اگر ممنوع جگہوں پر جانے پر ملٹری ٹرائل شروع کیے جائیں تو یہ بہت آسان ہو گا کہ کسی کا بھی ملٹری ٹرائل کر دیا جائے۔






