
خلیج اردو
08 ستمبر 2020
اسلام آباد: شہر اقتدار سے لاپتہ ہونے والے سابقہ صحافی اور ایس ای سی پی کے ایڈیشنل جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد علی گوندل کے اہلخانہ نے وزیراعظم آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ساجد گوندل کے والدین، اہلیہ اور بچوں نے پلے کارڈز لے کر وزیراعظم آفس کے سامنے اپنے پیارے کی گمشدگی کے خلاف احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں ساجد گوندل کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس سے درخواست ہے بتایا جائے میرے خاوند کو کیوں اٹھایا گیا۔صرف ہمیں بتایا جائے ان کا قصور کیا ہے۔اگر ان کیخلاف کوئی کیس ہے تو عدالت میں کیس چلایا جائے۔
مسز گوندل نے کہا کہ ان کا شوہر ایک پاکستانی شہری ہے لیکن ان کی گمشدگی کے بعد کسی ادارے نے اب تک ہم سے رابطہ نہیں کیا ۔مجھے بتاتا جائے میں اپنے بچوں کو کیا جواب دوں۔ان کے پاس کوئی حساس معلومات تھی نہ انہوں نے کبھی بھی حساس معاملات رپورٹ کیے۔ ہم سادے لوگ ہیں، ہمیں عدالتوں میں جانے کا کوئی شوق نہیں کوئی پتہ نہیں ۔
لاپتہ بیٹے کی بازیابی کیلئے احتجاج کرنے والی ماں کا کہنا تھا کہ اور کچھ نہیں جانتی بس اپنا بیٹا واپس چاہیئے۔
ساجد گوندل کے والد نے کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہمارے بیٹے کا کیا قصور ہے۔ پاکستان کا شہری اغواء ہوا ہے، وزیراعظم کا حق ہے وہ پتہ کریں کہ ان کا شہری کہاں گیا ہے۔ پاکستان کی پنتالیس سال اس ملک کی خدمت اب بیٹے اغوا کیا گیا اور راتوں کی نیند چھین لی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو سوچنا چاہئے آپ کے بھی دوبیٹے ہیں ان بیٹوں کو مدنظر رکھیں اور بتائیں ہمارے ساتھ کیوں یہ سلوک کیا جارہا ہے۔
ساجد علی گوندل جمعرات کو اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے تھے۔ ان کے اہل خانہ نے ابتدائی بیان میں بتایا تھا کہ ساجد گونل شام سے گھر واپس نہیں آئے، اُن کی گاڑی زرعی تحقیقاتی مرکز شہزاد ٹاون کے قریب کھڑی ملی ہے۔
وقوع کے بعد اسلام آباد پولیس کے تھانہ شہزد ٹاؤن میں گمشدگی کی ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی تھی۔
ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاؤن حاکم نیازی نے میڈیا کو بتایا تھا کہ جمعے کی صبح ساڑھے گیارہ بجے ایمرجنسی سروس 15 کی کال کے بعد ہم نے موقع پر پہنچ کر گاڑی قبضے میں لی ہے۔ کار ڈیٹا کا ریکارڈ حاصل کرلیا ہے، مختلف پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں۔
اتوار کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی کیس کے حوالے سے گیارہ صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا تھا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد سے شہریوں کے اغوا کے واقعات پر تفتیش کا حکم دینے پر غور کرے اور اپنے عمل، اقدامات سے مغوی کی بحفاظت واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔
عدالت نے فیصلے میں ساجدگوندل کی بازیابی کے لیے وفاقی حکومت کے فیصلے اور اقدامات پر مبنی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔
جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے تحریر کیے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ساجد گوندل آئندہ سماعت تک بھی بازیاب نہ ہوئے، یا ان کا پتہ نہیں چلایا جاسکا تو اٹارنی جنرل خود پیش ہوں۔
اتوار ہی کے روز پاکستان میں لاپتہ افراد سے متعلق قائم کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ساجد گوندل کی گمشدگی کے نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ طلب کی تھی۔ چیرمین نیب نے ساجد گوندل کے اہل خانہ کو بھی بدھ کے روز ذاتی طور پر طلب کر رکھا ہے۔
ساجد گونل کی گمشدگی کے بعد سماجی کارکنوں، صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کی جانب سے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
حال ہی میں پاکستان فوج کے ایک سابق افسر جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کے کاروبار کی تفصیلات کے دعوی پر مبنی رپورٹ شائع ہوئی تھی جس کے بعد کچھ افراد سوشل میڈیا پر ساجد گوندل کی گمشدگی کو لے کر الزام لگا رہے ہیں کہ مزکورہ رپورٹ میں مبینہ طور پر دستاویزات اور تفصیلات فراہم کرنے کی وجہ سے ساجد گوندل کو حساس اداروں نے لاپتہ کیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی سرکاری سطح پر تردید یا تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
اس انلائن رپورٹ میں عاصم سلیم باجوہ اور اس کے خاندان کے اثاثوں میں اضافے کو لے کر تائثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ فوج میں اہم عہدوں پر ترقی پانے کے وقت ان کے اثاثوں کی مالیت میں اضافہ ہوتا گیا ہے۔
اس رپورٹ کو عاصم سلیم باجوہ نے من گھڑت قرار دے کر مذموم پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد پاکستان میں چین پاک اکنامک کوریڈرو سی پیک کے لیئے قائم اتھارٹی کے چیئرمین اور وزیر اعظم کے معاون برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ نے وزیر اعظم عمران خان کو معاون خصوصی کے عہدے سے استعفی پیش کیا تھا جسے وزیر اعظم نے مسترد کیا تھا۔
اس حوالے سے جاری وزیر اعظم آفس کے بیان میں بتایا گیا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے خاندان کے اثاثوں کی تفصیلات کے حوالے سے جس انداز میں میڈیا کو تفصیلات فراہم کیں، اس پر وزیر اعظم نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
یاد رہے کہ عاصم سلیم باجوہ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر کے عہدے پر فائز رہے ہیں ۔ ان کے خلاف خبر شائع کرنے والے صحافی احمد نورانی پاکستان میں مبینہ طور پر نامعلوم افراد کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہوئے ہیں۔ احمد نورانی اپنی خبروں کی وجہ سے اکثر تنازعات کا شکار رہتے ہیں۔ ان کی خبروں کو بعض حلقوں کی جانب سے تعصب پر مبنی جبکہ بعض حلقے ان کی صحافت کو تحقیقاتی صحافت کا اثاثہ قرار دیتے ہیں۔







