
خلیج اردو
10 جولائی 2025، کراچی
مشترکہ مفادات کی کونسل میں کینالوں کی تعمیر سے متعلق کیے گئے فیصلوں کے منٹس جاری کر کے تمام صوبوں کو ارسال کر دیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1991ء کے بعد سے سندھ میں ایک بھی نیا کینال نہیں نکالا گیا، کیونکہ پانی دستیاب ہی نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ نے الزام لگایا کہ جنوری 2024ء میں نگران حکومت کے دور میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے پانی کی دستیابی کے بارے میں غلط معلومات فراہم کیں اور انہی بنیادوں پر پانی کی دستیابی کا سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا، جو حقیقت کے برعکس تھا۔
مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا کہ اب کینالوں کا مسئلہ صوبوں کے باہمی اتفاق رائے سے حل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ ہمیشہ اصولی مؤقف پر قائم رہا ہے اور پانی کی منصفانہ تقسیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ پانی کی منصوبہ بندی اور تقسیم میں تمام صوبوں کی آراء اور زمینی حقائق کو پیش نظر رکھا جائے گا تاکہ کوئی صوبہ اپنے بنیادی حق سے محروم نہ ہو۔






