
خلیج اردو
اسلام آباد: قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں چینی کے بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر سخت تنقید کی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں چینی کا بفر اسٹاک زیرو ہو چکا ہے اور اب عوام کے پیسے سے 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کی جائے گی۔
سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے کمیٹی کو چینی کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر رکن کمیٹی ریاض فتیانہ نے چینی کی برآمد پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب ملک میں قلت تھی تو چینی کیوں برآمد کی گئی؟ چیئرمین کمیٹی جنید اکبر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ داروں کے اس کھیل پر آئی ایم ایف کیوں خاموش ہے؟ یہ کون سا ڈرامہ ہے کہ پہلے چینی بارڈر پر ڈمپ کی جائے اور پھر امپورٹ کے نام پر واپس منگوائی جائے؟ قوم کے ساتھ یہ ظلم کب تک چلے گا؟
نوید قمر نے بھی معاملے کی سنگینی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شوگر اور فرٹیلائزر کے دو بڑے کارٹیلز ہیں جنہیں کنٹرول کرنا حکومت کے بس کی بات نہیں۔ جتنی حکومتی مداخلت بڑھے گی، اتنی ہی خرابیاں جنم لیں گی۔
ثناء اللہ خان مستی خیل نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اب صرف سانسوں اور قبروں پر ٹیکس لگانے سے رہ گئی ہے۔ لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی کھانا مشکل ہو چکا ہے، چینی کس نے امپورٹ کی، کس نے ایکسپورٹ کی، اور کس نے اجازت دی؟ یہ سب کچھ عوام کے سامنے لانا ضروری ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے چینی اسکینڈل پر آئندہ اجلاس میں مکمل بریفنگ طلب کر لی ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔






