پاکستانی خبریں

مخصوص نشستوں کے فیصلے میں ووٹ کو بنیادی حق لکھنا درست نہیں،مخصوص نشستوں کا کیس: سپریم کورٹ کے ججز کے سخت ریمارکس، ن لیگ سے وضاحت طلب

مخصوص نشستوں کا کیس: سپریم کورٹ کے ججز کے سخت ریمارکس، ن لیگ سے وضاحت طلب

خلیج اردو
اسلام آباد – سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران معزز ججز نے اہم سوالات اور ریمارکس دیتے ہوئے درخواست گزاروں اور وکلاء کو سخت مؤقف کا سامنا کروایا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے ن لیگ کے وکیل سے سوال کیا کہ ایک جماعت کے امیدواروں کو آزاد کیسے قرار دیا گیا؟ کیا آپ نے اپنی تحریری گزارشات میں اس سوال کا جواب دیا ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت کے سامنے یہ معاملہ نہیں کہ کون کیسے الیکشن لڑا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کے سابق فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس مندوخیل نے کہا کہ 39 امیدواروں کی حد تک وہ اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آٹھ ججز کے فیصلے سے متفق تھے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی واضح طور پر کہا تھا کہ پی ٹی آئی کو پارٹی تسلیم کیا جاتا ہے اور وہ مخصوص نشستوں کی حقدار ہے۔

جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ جو جماعت الیکشن لڑتی ہے، وہی پارلیمانی پارٹی تشکیل دیتی ہے، سوال یہ ہے کہ اگر امیدوار اپنی جماعت سے نہیں لڑے تو پھر پارلیمانی جماعت کیوں بنائی گئی؟

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اقلیتی ججز نے بھی انہی بنیادوں پر پی ٹی آئی کو تسلیم کیا جن بنیادوں پر اکثریتی ججز نے فیصلہ دیا تھا۔

جسٹس صلاح الدین پنہور نے نظرثانی درخواستوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نظرثانی لانے والوں نے جس فیصلے کو چیلنج کیا، وہ ہمارے سامنے پڑھا ہی نہیں۔ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اب ان درخواستوں میں انہی اقلیتی فیصلوں پر انحصار کیا جا رہا ہے، جنہیں پہلے نظرانداز کیا گیا تھا۔

دوسری طرف درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ پی ٹی آئی کو اس کیس میں کوئی ریلیف مل ہی نہیں سکتا تھا، اس لیے نظرثانی ان فیصلوں پر انحصار کرتے ہوئے نہیں لائی جا سکتی۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے ججز نے واضح کیا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے میں ووٹ کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے، اور تین دن کی مدت کو بڑھا کر 15 دن کرنے کا عمل آئین کو ازسرنو تحریر کرنے کے مترادف ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button