خلیج اردو
اسلام آباد – پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما علیمہ خان نے الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی قابض ہونا چاہتی ہیں، اور اس مقصد کے لیے عدلیہ کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عدلیہ آزادانہ فیصلے دے تو بانی پی ٹی آئی جلد رہا ہو سکتے ہیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ موجودہ حالات میں جو لوگ پارٹی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، وہ راستہ چھوڑ دیں تاکہ نئے لوگ آگے آ کر ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں صرف کتابیں پڑھنے اور بچوں سے بات کرنے کی اجازت چاہیے، لیکن آٹھ ماہ میں صرف ایک مرتبہ بچوں سے بات کرائی گئی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جیل حکام عدالتی احکامات کو ماننے سے انکاری ہیں، جو کہ قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ علیمہ خان نے زور دیا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ آئین و قانون کی حکمرانی کی بات کرتے رہے ہیں، لیکن ان کے ساتھ قانون کے تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے۔
انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کو 9 مئی کے بعد کی اصل کہانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے آٹھ فروری کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول، موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ جوڈیشری نے ایگزیکٹو کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور عدالتی خودمختاری کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔






