
خلیج اردو
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم کی جانب سے دائر اپیلیں مسترد کر دیں۔ عدالت نے زنا بالجبر کے الزام سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو بحال کر دیا، جس کے تحت ظاہر جعفر کو اس جرم میں عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔
فیصلے کے مطابق قتل کے جرم میں ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ اغواء کے الزام میں دی گئی دس سالہ سزا کم کر کے ایک سال قیدِ بامشقت کر دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے دو دن کی سماعت کے بعد مختصر فیصلہ سنایا جس میں مجرم کے معاونین مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار کی سزاؤں میں بھی نرمی کی گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ دونوں افراد جتنی سزا کاٹ چکے ہیں، وہی کافی ہے۔
عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے بعد نور مقدم کیس میں کئی قانونی نکات پر وضاحت آ گئی ہے، جبکہ متاثرہ خاندان کی طرف سے فیصلے کو جزوی انصاف قرار دیا گیا ہے۔






