
خلیج اردو
لاہور قلندرز نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 10 کے سنسنی خیز فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو چھ وکٹوں سے شکست دے کر تیسری مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کر لیا، اور اس کامیابی کا فیصلہ کن لمحہ سکندر رضا کے بلے سے آیا، جنہوں نے آخری اوور میں فاتحانہ شاٹس کھیل کر ٹیم کو فتح دلائی۔
سکندر رضا اتوار کے روز صرف 10 منٹ قبل ٹاس کے وقت لاہور پہنچے، جب کہ وہ انگلینڈ میں زمبابوے کی شکست کے فوراً بعد براہ راست پرواز کے ذریعے پاکستان پہنچے تھے۔ 39 سالہ آل راؤنڈر نے ناقابل شکست 22 رنز بنائے، جن میں دو چھکے اور دو چوکے شامل تھے، اور آخری اوور میں درکار 13 رنز میں اہم کردار ادا کیا۔
میچ کے بعد رضا نے کہا، "برمنگھم میں رات کا کھانا کھایا، دبئی میں ناشتہ، ابوظہبی میں دوپہر کا کھانا، اور پھر پاکستان میں رات کا کھانا کھایا۔ یہی ہے ایک پیشہ ور کرکٹر کی زندگی، اور میں اس زندگی کے لیے شکر گزار ہوں۔”
لاہور قلندرز نے 202 رنز کے ہدف کا تعاقب ایک گیند قبل مکمل کیا۔ سری لنکن بلے باز کوشال پریرا نے 31 گیندوں پر ناقابل شکست 62 رنز بنائے، جن میں پانچ چوکے اور چار چھکے شامل تھے۔ انہوں نے سکندر رضا کے ساتھ پانچویں وکٹ پر 59 رنز کی شراکت قائم کی۔
اوپنر محمد نعیم نے 46 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی، جس میں چھ چھکے اور ایک چوکا شامل تھا، جب کہ عبداللہ شفیق نے 41 رنز بنا کر ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 201 رنز بنائے۔ حسن نواز نے شاندار 76 رنز بنائے، جو 43 گیندوں پر چار چھکوں اور آٹھ چوکوں کی مدد سے بنے۔ انہوں نے اویشکا فرنینڈو (29) کے ساتھ چوتھی وکٹ پر 67 اور دنیش چندیمل (22) کے ساتھ پانچویں وکٹ پر 46 رنز جوڑے۔
لاہور کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 24 رنز دے کر 3 کھلاڑی آؤٹ کیے اور بولنگ میں نمایاں رہے۔ آخری اوور میں فہیم اشرف نے 23 رنز بنا کر کوئٹہ کو 200 کے پار پہنچایا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ چھ ٹیموں پر مشتمل پی ایس ایل کو 9 مئی کو پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے باعث معطل کر دیا گیا تھا، تاہم 17 مئی کو جنگ بندی کے بعد لیگ دوبارہ شروع کی گئی، جس کا اختتام لاہور قلندرز کی تاریخی فتح پر ہوا۔






