
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کے باصلاحیت پیرا ایتھلیٹ محمد یوسف عثمان نے حال ہی میں نئی دہلی میں منعقدہ عالمی چیمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیت کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ 21 سالہ ایتھلیٹ نے وہیل چیئر دوڑ کے مردوں کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تھائی لینڈ کے چائیوات رتنا اور آسٹریلیا کے رِیڈ میک کریکن کے بعد تیسری پوزیشن حاصل کی۔
محمد عثمان، جو دبئی کلب برائے معذور افراد کے کھلاڑی ہیں، نے کہا کہ ان کا اگلا ہدف سونے کا تمغہ جیتنا ہے۔ ان کے مطابق وہ پانچ ماہ تک ملک سے باہر رہ کر سخت تربیت کر چکے ہیں اور اب ان کی نظریں 2028 کے لاس اینجلس پیرالمپکس کھیلوں میں سونے کے تمغے پر مرکوز ہیں۔
گزشتہ سال پیرس 2024 پیرالمپکس میں وہ متحدہ عرب امارات کی ٹیم کے سب سے کم عمر کھلاڑی تھے اور پانچویں پوزیشن پر رہے، جبکہ جاپان کے شہر کوبے میں ہونے والی عالمی چیمپئن شپ میں وہ تمغہ جیتنے سے بال بال بچ گئے تھے۔ نئی دہلی میں حاصل کردہ کامیابی پر انہیں دبئی کلب برائے معذور افراد کی جانب سے خصوصی طور پر اعزاز سے نوازا گیا۔
یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ متحدہ عرب امارات کو وہیل چیئر دوڑ کے مقابلوں میں محمد الحمادی کے بعد ایک نیا ستارہ مل گیا ہے، جنہوں نے ماضی میں متعدد پیرالمپکس تمغے اور تین عالمی چیمپئن شپ جیت رکھی ہیں۔
کلب کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین ثانی جمعہ بررگاد نے کھلاڑی اور کوچ دونوں کی محنت کو سراہا اور کہا کہ اس کامیابی کو برقرار رکھنے اور مزید بلندیوں کو چھونے کے لیے انہیں اپنی کوششیں دوگنی کرنا ہوں گی۔
محمد عثمان نے کہا کہ معذور افراد پوری طرح اس قابل ہیں کہ وہ عالمی سطح پر متحدہ عرب امارات کا پرچم سربلند کر سکیں۔ ان کے کوچ عبداللہ المشرعاوی نے کہا کہ یہ کامیابی مسلسل محنت، نظم و ضبط اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہے اور محمد یوسف اب مزید کامیابیوں کی جانب رواں دواں ہیں۔






