سٹوری

ابو ظہبی میں ایک صدابہار 100 سالہ قدیم درخت دریافت۔

یہ درخت جو بلکل اپنی اصل حالت میں ہے اندازے کے مطابق 100 سالہ قدیم ہے۔

(خلیج اردو آن لائن نیوز)ابو ظہبی کی وزارتِ ماحولیات نے آج سوموار کو بتایا کہ "ایک صدابہار سرسبز درخت "ال سر” تلاش کیا گیا ہے”۔
وزرات نے اس درخت کو السر کے واحد درخت کے طور پر اپنے ریکارڈ میں رکھا ہے جو کہ ملاقت کے پہاڑی سلسلے میں العین کے مشرق میں عمان کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔

ملاقت کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اندازے کے مطابق یہ درخت تقریباً سو سال پرانا ہے اور وہ اس کی ٹہنیوں کو بطور آئ لائنر استعمال کرتے رہے ہیں جسے عربی میں "ال معرود” کہا جاتا تھا۔
علاقہ جہاں یہ درخت دریافت ہوا ہے ایک ایسے سلسلے میں واقع ہے جہاں جانا انتہائی دشوار گزار ہے یہی وہ وجہ ہے کہ اس قسم کے آخری درخت کا وجود قائم رہا۔یہ درخت وزارت کی اس مہم کے دوران دریافت ہوا ہے جس میں ناپید ہوتے درختوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور ان کے بیجوں سے ان کی پھر سے آبیاری کی جارہی ہے۔

ہم مقامی یونیورسٹیوں میں سائنسی تحقیقی مراکز کے ساتھ بھی کام کریں گے تاکہ درختوں کی تعداد کو اس کے موجودہ ٹشووں کے استعمال سے ضرب کرنے کی کوشش کی جائے اور اس کے مطابق اس منصوبے کی کامیابی کی پیمائش کی جاسکے۔ ای ڈی کے سکریٹری جنرل ، ڈاکٹر شائقہ سالم ال دھہری نے کہا کہ درخت کی پرورش میں کامیابی کی صورت میں ، بحالی کے کام اس کے قدرتی رہائش گاہوں کے منتخب مقامات پر انجام دیئے جائیں گے۔

کیا آپ نے السر کا درخت دیکھا ہے؟
متحدہ عرب امارات میں صرف راس الخیمہ میں ہی بڑھتا ہوا السر درخت ، ایک ایسا سدا بہار درخت ہے جس کی اونچائی تقریبا آٹھ میٹر ہے اس کےپتے چھوٹے اور گھنی شاخیں ہوتی ہیں۔ شاخیں درخت کو ایک سبز کور فراہم کرتی ہیں جو اس کی نشوونما مکمل کرنے کے لیے ایک مکمل سایہ کا کام کرتی ہیں۔ اس کےپھول جنوری اور فروری میں اگتے ہیں اور چھوٹے اور کانٹے دار پھلوں میں بدل جاتے ہیں جو مارچ اور اپریل میں پک جاتے ہیں۔ جزیرہ عرب میں کم تعداد میں موجودہے لیکن افریقہ میں یہ بڑی تعداد میں موجود ہے۔

بشکریہ:خلیج ٹائمز

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button