شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کا بنیادی تعارف اگر بطور ایک شاعر اور ایک گھڑ سوار کے طور پر کیا جائے تو اس میں بلاشبہ کوئ مبالغہ نہیں ہوگا۔ اوائل عمری میں ہی آپ نے باز کے ذریعے شکار کرنا سیکھا۔
آپ نے دبئئ کا حکمران و متحدہ عرب امارات کا وزیراعظم و نائب صدر بننے سے پہلے بطور سربراہ دبئئ پولیس و عوامی سیکورٹی اور وزیر دفاع کے عہدوں پر بھی کام کیا تھا۔
شیخ محمد بن راشد المکتوم کی ترتیب حیات
- تاریخ پیدائش: 1949
- بطور سربراہ دبئئ پولیس و عوامی سیکورٹی تقرری 1 نومبر 1968
- بطور وزیر دفاع تقرری دسمبر 1971
بطور کراؤن پرنس دبئئ(نائب حکمران دبئئ)
- جنوری1995 تا جنوری 2006
- بطور حکمران دبئئ تقرری 4 جنوری 2006
- بطور نائب صدر متحدہ عرب امارات تقرری 5 جنوری 2006
- بطور وزیراعظم متحدہ عرب امارات تقرری 11 فروری 2006
زندگی کے ابتدائی ماہ سال
شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کی تاریخ پیدائش 1949 ہے۔آپ کے والد کا نام شیخ راشد بن سعید المکتوم تھا اور آپ اپنے والد کے چار بیٹوں میں تیسرے نمبر کے بیٹے ہیں دیگر بھائیوں میں شیخ مکتوم،شیخ حمدان اور شیخ احمد شامل تھے۔
آپ نے اپنے بچپن کی زندگی المکتوم خاندان کے آبائ گھر میں گزاری یہ گھر ال شنداغا میں موجود ہے۔آپ کے والدین اور دادا شیخ سعید المکتوم جو اس وقت دبئئ کے حکمران تھے نے آپ کو نہایت پیار محبت سے پالا اور آپ پر بہت شفقت فرمائ۔شیخ سعید عمومی طور پر اپنی مجالس اپنے گھر کے باہر موجود لکڑی کے تختوں پر منعقد کیا کرتے ۔یہ مجالس شیخ محمد کی ابتدائی زندگی کا ایک بہترین تجربہ تھا کیوں کہ آپ اپنے دادا کے بہت قریبی تھے اور اکثر اوقات ان مجالس میں اپنے دادا کے ہمراہ موجود رہتے۔
بچپن سے ہی آپ نے شکار اور روایتی عرب تہذیب کی شان فالکنری سیکھی (باز کے ذریعے شکار کرنا) اس کے علاوہ آپ نے اپنے والد سے گھڑ سواری کے بنیادی اصول بھی سیکھے۔
تقریباً چار سال کی عمر سے آپ کو ذاتی طور پر عربی علوم اور اسلامی تاریخ پڑھائ جانے لگی۔1955 میں آپ نے ڈیرا دبئئ میں واقع ال احمدیہ پرائمری سکول سے باقاعدہ تعلیم کا آغاز کیا۔
10 سال کی عمر میں آپ نے ال شاب سکول میں تعلیم حاصل کرنی شروع کی اور دو سال بعد دبئی سکینڈری سکول میں تعلیمی سلسلہ شروع کیا ۔1964 -1965 کے تعلیمی سال کے اختتام پر آپ نے تمام مضامین کا امتحان پاس کرلیا۔
9 ستمبر 1958 آپ کے دادا شیخ سعید المکتوم کا انتقال ہوا اور آپ کے والد شیخ راشد بن سعید المکتوم دبئئ کے نئے حکمران بنے۔
اکتوبر 1958 میں آپ کے والد نے سنجیدگی سے آپ کو دبئی حکومت میں ذمہ داری دینے کے بارے میں سوچ بچار شروع کردی۔
آپ کے والد شیخ راشد کا یہ ماننا تھا کہ شیخ محمد کے اندر موجود خوبیوں کی وجہ سے آپ ملک کی اندرونی و بیرونی سیکورٹی صورتحال کو سنبھال سکتے ہیں۔
اگست 1966 میں شیخ محمد برطانیہ روانہ ہوئے اور بیل سکول برائے زبان و ادب کیمرج میں داخلہ لیا۔شیخ محمد نے اس تعلیمی ادارے میں اپنے قیام کے دوران دنیا کے محتلف ممالک اور ان کے لوگوں کے بارے تحقیق کی اور اپنے مطالعے میں اضافہ کیا۔
شیخ محمد نے اپنے آپ کو کیمبرج کے نظام تعلیم میں مکمل سمو لیا اور ایک بہترین طالبعلم بن کر ابھرے ۔دبئئ میں اپنے مستقبل کے کردار کو ادا کرنے کے لیے آپ مونس آفیسر کیڈٹ سکول ایلڈر شاٹ میں داخلہ لیا جو موجودہ وقت میں رائل ملٹری اکیڈمی کا حصہ ہے۔
اپنے کورس کے ان چھ مہینوں میں شیخ محمد کو بطور سینیئر افسر کھوما ترقی دے دی گئ اور آپ نے اپنی بہترین کارکردگی کی وجہ سے اعزازی تلوار بھی اپنے نام کی۔غیر ملکی و دولت مشترکہ کے کیڈٹ کے طور پر آپ وہ واحد شخصیت تھے جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔
شیخ محمد کا دبئئ حکومت میں انتظامی سفر
جب شیخ محمد 1968 میں وطن واپس تشریف لائے تو آپ کے والد نے آپ کو دبئئ پولیس اور عوامی سیکورٹی کا سربراہ بنایا۔یہ بطور منتظم آپ کی پہلی ذمہ داری تھی۔
شیخ راشد نے آپ کو وزیر دفاع بھی مقرر کیا اور ایسے آپ تاریخ میں سب سے نوجوان وزیر دفاع مقرر ہوئے۔
18 اکتوبر 1968 وہ دن جب شیخ راشد بن سعید المکتوم اور شیخ زید بن سلطان النہیان صحرا میں ایک دوسرے سے روبرو ہوئے اور دبئئ اور ابوظہبی کے درمیان ایک فیڈریشن بنانے کے بارے میں بات چیت شروع کی۔
شیخ محمد نے اس ملاقات میں اپنے والد کے ہمراہ شرکت کی اور آپ آج بھی ان الفاظ کو یاد رکھے ہوئے ہیں جو اس ملاقات میں بولے گئے۔
2 دسمبر 1971 وہ تاریخی دن جب ابوظہبی،دبئئ ،شارجہ ،فجیرہ،عجمان اور ام القوین کے حکمران جمیرا میں شیخ راشد کے محل میں اکھٹے ہوئے۔یہ وہ تاریخی دن تھا جب ان سب ریاستوں کے حکمرانوں نے ایک متفقہ آئین تشکیل دیا اور اس پر دستخط کیے اور یوں دنیا کے نقشے پر متحدہ عرب امارات کے نام سے ایک نیا ملک وجود میں آیا۔کچھ عرصے بعد راس الخیمہ نے بھی اس میں شمولیت اختیار کرلی۔
باوجود اس کے کے شیخ محمد بن راشد دنیا کے نوجوان ترین وزیر دفاع تھے آپ نے اپنی قابلیت سے اندرون و بیرون ملک یہ ثابت کیا کہ آپ واقعی ایک قابل انسان ہیں اور آپ کا وزیر دفاع مقرر کیا جانا ایک درست فیصلہ تھا۔
متحدہ عرب امارات کی افواج نے اپنا پہلا بین الاقوامی مشن 1976 میں سرانجام دیا جب اماراتی افواج لبنان میں ایک امن مشن کا حصہ بنیں۔
25 اگست 1977 شیخ راشد بن سعید نے دبئئ ائیرپورٹ کے انتظام کو چلانے کے لیے شیخ محمد کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تاکہ ناصرف دبئی کو بین الاقوامی طور پر فضائ سفر کا گڑھ بنایا جاسکے اس کے علاوہ سیاحوں کو بھی متوجہ کیا جاسکے۔
اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے شیخ محمد نے کھلے آسمان یعنی دنیا کی ساری فضائ کمپنیوں کو امارات کی فضاؤں میں آنے کی اجازت دی اور سیاحتی صنعت کو فروغ دیا جو 90 کی دہائ میں اپنے عروج کو پہنچ گئ۔
اسی عرصے میں شیخ محمد نے دبئئ کے تیل کی صنعت کا انتظام بھی اپنے ہاتھ میں لیا اور یہ اب تک کا ان کا سب سے بڑا کام تھا کیوں کہ اس وقت تیل کی کمائ بلاشبہ دبئئ کی معاشی ترقی کا ایک اہم زینہ تھا۔
1985 میں شیخ محمد نے جبل علی فری زون کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیا۔یہ زون جبل علی بندرگاہ کے اردگرد ایک صنعتی علاقے پر مشتمل تھا ۔شیخ محمد کی مجالس بھی انہی خطوط پر مبنی تھیں جو ان کے والد شیخ راشد کا خاصہ تھی۔
مشکل حالات جیسے لبنان جنگ،عراق ایران جنگ ،فلسطین کا مسئلہ ان سب حالات میں شیخ محمد نے دبئئ کی ترقی کو بہت احسن انداز سے جاری رکھا۔
7 اکتوبر 1990 وہ دن جب شیخ راشد بن سعید المکتوم اس دنیا فانی سے کوچ کرگئے۔شیخ محمد اور ان کے بھائیوں کے لیے اس دوران سانس لینا کا وقت بھی نہیں تھا کیوں کہ عراق نے کویت پر حملہ کرکہ قبضہ کرلیا تھا۔
متحدہ عرب امارات کی افواج ان اتحادی افواج کی فہرست میں سب سے آگے تھیں جنہوں نے کویت کو عراق کے قبضے سے چھڑانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔جنگ حتم ہوتے ہی شیخ محمد بن راشد نے فوراً تقریباً 250 ٹن امداد کویت روانہ کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی طبعی عملے کو کویت بھیجا تاکہ وہاں بگڑتی ہوئ صحت کی سہولیات کو بہتر کیا جاسکے۔
اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات نے شیخ زید اور شیخ محمد بن راشد کی ہدایات کی روشنی میں دنیا کے محتلف ممالک بشمول بوسنیا ،صومالیہ کسوو میں امن کی بحالی اور انسانی خدمت میں اہم کردار ادا کیا۔
شیخ محمد بطور کراؤن پرنس دبئئ (نائب حکمران)
3 جنوری 1995 کو اس وقت کے دبئئ کے حکمران شیخ مکتوم نے شیخ محمد کو دبئئ کا کراؤن پرنس نامزد کردیا۔
یہ انتخاب دبئئ کی ترقی میں ایک اہم کردار ثابت ہوا اور شیخ محمد نے دبئئ کے مستقبل کو بہتر و عظیم بنانے کے لیے بہت سے نئے منصوبوں کا اعلان کیا۔
1995 میں شیخ محمد نے ایسے منصوبوں کا اعلان کیا جس کہ تحت کی معشیت اور دبئئ حکومت مکمل طور پر ان لائن کام کرے گی۔یہ منصوبے گویا ایک انقلاب کی صورت میں سامنے آئے۔
"دبئئ میری منزل” نامی منصوبے نے سیاحتی شعبے میں ایک اہم کامیاب کردار ادا کیا وہیں 1995 میں شیخ محمد نے” دبئئ شاپنگ فیسٹیول” منصوبے کا اعلان کیا۔
1 اپریل 1998 دبئئ ائیرپورٹ پر شیخ راشد ٹرمینل کا افتتاح ہوا جس کی لاگت تقریباً 540 ملین ڈالر تھی۔یہ ائیرپورٹ کا پہلا توسیعی منصوبہ تھا۔
اس کے علاوہ دبئی کے سمندر میں ایک قدرتی جزیرہ بنایا گیا یہ شیخ محمد کا اب تک کا سب سے بڑا منصوبہ تھا اس کے علاوہ دنیا کا پہلا سات ستارہ (سیون سٹار ہوٹل) برج العرب بھی اس منصوبے کا حصہ تھا۔
11 مئ 1999 شیخ محمد نے یہ اعلان کیا کہ دبئئ حکومت کو آنے والے ڈیڑھ سال میں مکمل ایک آن لائن حکومت بنادیا جائے گا ۔یہ اپنی نوعیت کی دنیا کی پہلی آن لائن حکومت ہوگی۔
29 اکتوبر 1999 شیخ محمد نے "دبئی انٹرنیٹ سٹی” نامی منصوبے کا اعلان کیا جسے صرف ایک سال کی قلیل مدت میں مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔
شیخ محمد اور ان کے خاندان نے اس کے علاوہ بھی محتلف فری زون علاقے قائم کیے جن میں "دبئئ میڈیا سٹی” اور "دبئئ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر” شامل ہیں ۔
2001 کی شروعات میں شیخ محمد نے ایک بہت ہی منفرد منصوبے کا اعلان کیا جس کا نام "DESTINATION DUBAI ” یا دبئئ میری منزل تھا۔اس منصوبے کے تحت دو بہت بڑے مصنوعی پام آئل درخت کی شکل کے جزائر بنائے جانے تھے۔ 2001 میں شیخ احمد بن سعید المکتوم سربراہ امارات ائیر لائن نے یہ اعلان کیا کہ ” شیخ محمد کے احکامات کی روشنی میں امارات ائیر لائن 10 ارب ڈالر مالیتی 60 نئے ہوائی جہاز خریدنے جارہی ہے”.
شیخ محمد بطور حکمران دبئئ،نائب صدر متحدہ عرب امارات اور وزیر اعظم متحدہ عرب امارات
4 جنوری 2006 شیخ محمد اپنے بڑے بھائ اور اس وقت دبئئ کے حکمران شیخ مکتوم بن راشد المکتوم کی وفات کے بعد دبئئ کے نئے حکمران بن گئے۔
اگلے ہی دن یعنی 5 جنوری کو متحدہ عرب امارات کی مرکزی مرکز شوری نے شیخ محمد کو ملک کا نائب صدر بنانے کی منظوری دی۔
11 فروری 2006 کے دن متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید نے شیخ محمد کو ملک کا وزیراعظم نامزد کیا اور مرکزی شوری نے ان کے فیصلے کی توثیق کردی۔
شیخ محمد اور شاعری
شیخ محمد نے بچپن سے ہی جب وہ سکول میں زیر تعلیم تھے "نباتی شاعری” لکھنی شروع کردی۔آپ کے والد مرحوم شیخ راشد بن سعید اور مرحوم شیخ زید بن سلطان کے کردار کا آپ کی شاعری پر بہت مثبت اثر پڑا۔
جب شیخ محمد کی شاعری پہلی دفعہ اخبارات میں شائع ہونا شروع ہوئیں تو وہ ان کے نام کے بجائے ان کے محتلف قلمی یا خیالاتی ناموں جیسے نداوی اور سالیت کے نام سے شائع ہوتیں۔آپ چاہتے تھے کہ لوگ حقیقت میں آپ کی شاعری کو سراہیں اور اخبارات اس وجہ سے صرف آپ کی شاعری شائع نا کریں کہ آپ شاید حکمران خاندان کے ایک فرد ہیں۔
موجودہ دور میں شیخ محمد نباتی قسم کی شاعری کے ایک بہت ہی مشہور اور عمدہ شاعر ہیں اور اپنی شاعری میں اپنا نام استعمال کرتے ہیں۔آپ کی ایک شاعری کی کتاب "POEMS FROM THE DESSERT” جو انگریزی زبان میں شائع ہوئی۔اس کتاب نے دو سال تک بہترین سیلر کا اعزاز اپنے پاس رکھا۔
شاعری نے شیخ محمد کو یہ موقعہ دیا ہے کہ وہ اپنی زات کے ان پہلوؤں کو سامنے لائیں جو وہ بظاہر عام حالات میں سامنے نہیں لا سکتے۔
آپ کی شاعری محتلف قسم کے حالات و واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔ جیسے پیار محبت سے لے کر حالاتِ حاضرہ تک۔
شیخ محمد اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کو بھی یہ پیغام دیتے ہیں کہ وہ نباتی طرز کی شاعری کریں۔وہ اپنی شاعری میں اکثر اوقات سوال پنہا کر دیتے ہیں اور عام عوام کو اس کا جواب دینے کا کہتے ہیں۔
شیخ محمد ایک بہترین گھڑ سوار
خلیجی ممالک کے ایک نامی گرامی خاندان کا فرد ہونے کے ناتے یہ بات ضروری تھی کہ بچپن سے ہی آپ کو گھوڑوں سے متعارف کروایا جائے۔آپ نے بچپن میں ہی گھڑسواری سیکھنا شروع کر دی اور خود کو ایک بہترین کھلاڑی بنالیا۔
گھڑ سواری آپ کا بلاشبہ ایک بہترین اور سب سے عمدہ شوق ہے۔
آپ نے سب سے پہلے 1967 میں برطانیہ میں گھوڑوں کے ریس میدان کو دیکھا۔آپ اور آپ کے بھائ شیخ حمدان نے رائل پیلس کو 2000 گیناس(اس وقت کی برطانوی کرنسی) جیتتے ہوئے دیکھا
10 سال بعد شیخ محمد کو ان کے گھوڑے (HATTA THE FILLY) نے بطور مالک پہلی کامیابی دلوائی۔
بے شمار کامیابیوں کے باوجود 1994 میں جب آپ نے اپنا ریس کورس GoDolhpin کے نام سے بنایا تو دنیا نے آپ کا گھوڑوں کے لیے عشق اور جنون کو جانا اور پہچانا اور یوں آپ دنیا میں ایک بہت بڑے اسطبل کے مالک بن کر ابھرے۔GoDolhpin نے آپ کو یہ موقعہ فراہم کیا کہ آپ اپنے تمام حیالات اور مشوروں کو عملی جامعہ پہنا سکیں جو شاید پہلے ممکن نا تھے۔
GoDolphin کی کامیابی اور عروج نے دبئئ کو بھی بلاشبہ دنیا کے نقشے پر ایک نام،مقام ،عزت اور شہرت بخشی۔
دنیا کی سب سے مہنگی ریس "DUBAI WORLD CUP” بھی اسی خیال کو ذہن میں رکھ کر شروع کی گئ۔امریکی گھوڑے "CIGAR” نے پہلی ورلڈ کپ ریس اپنے نام کی اور تب سے اس ورلڈ کپ میں بین الاقوامی گھڑسواروں کی شرکت ہورہی ہے۔
گوڈولفن کی کامیابی اور ترقی نے دبئی کی بین الاقوامی دنیا میں شہرت میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اس کے قائم ہونے کے وقت ، مالکان اپنے گھوڑوں کی دوڑ صرف اپنے براعظم میں کرتے تھے۔ شیخ محمد پوری دنیا میں اپنے گھوڑوں کی دوڑ لگانا چاہتے تھے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دینا چاہتے تھے۔
شیخ محمد نے گھوڑے کے مالک کی حیثیت سے بین الاقوامی سطح پر پہچان حاصل کی ہے ، جس کا ثبوت 2001 میں انہیں خصوصی چاند گرہن ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
آپ ایک غیر معمولی ہنر مند سوار بھی ہے۔ آپ نے ENDURANCE RACING کی دوڑ کا انتخاب کیا ہے جس نے روایتی ہارس ریسنگ میں بین الاقوامی مقبولیت حاصل نہیں کی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے متعدد سواروں نے اس کھیل میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ، شیخ محمد نے قومی ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ گھوڑوں سے زیادہ سے زیادہ بہتر انداز میں کام لینا،انہیں مناسب وقت پر تیز دوڑانا ان سب میں آپ کو کمال مہارت حاصل ہے۔
انہوں نے اسپین اور پرتگال میں 1999 میں ہونے والی یورپی چیمپیئن شپ میں متحدہ عرب امارات کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا اور 2001 میں اٹلی میں ٹائٹل برقرار رکھنے والی ٹیم کے وہ کپتان تھے۔
2003 میں آئرلینڈ میں ہونے والی یورپی چیمپیئن شپ میں ، وہ ایک بار پھر کپتان تھے اور فتح سمیٹی۔ اولمپکس میں ENDURANCE RACING کو شامل کرنے کی مہم میں بھی وہ ایک نمایاں شخصیت ہیں
شیخ محمد کی انسانی ہمدردی کے ادارے اور ایوارڈ.
شیخ محمد نے متعدد ادارے اور ایوارڈ قائم کیے جو فطرت کے لحاظ سے انسان دوست ہیں لیکن ان کا مقصد مقامی اور علاقائی طور پر لوگوں کی زندگیوں کو صحت ، رہائش ، تعلیم ، روزگار وغیرہ کی سہولیات فراہم کرکے ان کی زندگیوں کو بلند کرنا ہے۔
عام انسان دوستی کی سرگرمیاں انجام دینے والے اداروں میں
محمد بن راشد المکتوم ہیومینیٹیریٹی اینڈ چیریٹی ایسٹ
محمد بن راشد المکتوم عالمی اقدامات
صحت کی بہتری کے لیے ادارے
شیخ محمد بن راشد اسپورٹس اور فٹنس پروگرام
نور دبئی
متحدہ عرب امارات کی واٹر ایڈ (سکیا)
تعلیم کی بہتری کے لیے ادارے
محمد بن راشد المکتوم نالج فاؤنڈیشن
محمد بن راشد اسکول آف گورنمنٹ
دبئی کیئرز
ثقافتی بہتری کے ادارے
شیخ محمد مرکز برائے ثقافتی تفہیم
شیخ محمد نے مختلف شعبوں میں تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لئے بہت سارے ایوارڈز کا بھی اجرا کیا۔ انہوں نے جو ایوارڈ شروع کیے ان میں کچھ درج ذیل ہیں
عرب جرنلزم ایوارڈ
آرٹس ایوارڈز شیخ محمد بن راشد
عرب سوشل میڈیا ایوارڈ۔
شیخ محمد ، عوامی شخصیت
عزت مآب شیخ محمد ایک بلاشبہ عوامی شخصیت ہیں۔ وہ عوام اور اپنی کابینہ کے ساتھ باقاعدگی سے آن لائن اور آف لائن مشاورتی اجلاس کرتے ہیں۔ فیس بک ، ٹویٹر اور انسٹاگرام پر اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ان کے بہت زیادہ پیروکار ہیں۔ وہ خطے میں eparticpation کو نافذ کرنے کا علمبردار ہے۔
کچھ قومی آن لائن سیشن مندرجہ ذیل تھے:
اپریل 2009
ان کا صحافیوں کے ساتھ پہلا آن لائن اجلاس اپریل 2009 میں متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم (www.uaepm.ae) کی اس وقت کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے ہوا تھا۔ انہوں نے مقامی اور علاقائی پریس کے سوالات کے جوابات دیئے ، جو عالمی مالیاتی بحران اور متحدہ عرب امارات پر اس کے اثرات ، آبادی ، مزدوروں کے حقوق اور مجوزہ خلیج تعاون کونسل کی ممکنہ کرنسی کو سے متعلق تھی۔ عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی موجودہ سرکاری ویب سائٹ یہ ہے: https://shekhmo Mohammed.ae/en-us۔
جون 2009
جون 2009 میں ، شیخ محمد نے ایک اور آن لائن سیشن کا انعقاد کیا۔ اس بار عوام کے ساتھ یہ سیشن بھی متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم (www.uaepm.ae) کی اس وقت کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے ہوا تھا۔
نومبر 2012
شیخ محمد نے دنیا کے سب سے بڑے ذہن سازی سربراہی اجلاس میں شرکت کی جہاں تعلیم ، کاروبار ، سول سوسائٹی اور حکومت کے ایک ہزار ماہرین جمع ہوئے جنہوں نے دنیا کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ جیسے توانائی ، خوراک کی حفاظت اور تعلیم اور صحت کے امور۔
دسمبر 2013
دسمبر 2013 میں ، شیخ محمد نے لوگوں کو ایک اور آن لائن سیشن کے لئے مدعو کیا۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کے شہریوں اور رہائشیوں سے صحت اور تعلیم کے شعبوں کی ترقی کے لئے اپنے خیالات بتانے کو کہا۔شیخ محمد نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کا استعمال لوگوں کو اس بڑے قومی ذہن سازی اجلاس میں شرکت کے لئے مدعو کرنے کے لئے کیا۔ انہوں نے لوگوں کو اس وقت کی وزیر اعظم کی سرکاری ویب سائٹ (www.uaepm.ae) کے ذریعے ، brainstorming@uaepm.ae پر ای میل بھیج کر یا #uaebrainstorm کے ہیش ٹیگ کے ذریعے ٹویٹ کرکے تجاویز پیش کرنے کی ترغیب دی۔
اس ذہن سازی اجلاس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ مارچ 2014 میں ، متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے متحدہ عرب امارات میں صحت کے شعبے کی ترقی اور بہتری کے لئے متحدہ عرب امارات کے قومی انسٹی ٹیوٹ برائے میڈیکل اسپیشلائزیشن (یو اے ای میڈیکل بورڈ) کے قیام کی توثیق کی تھی۔ کابینہ نے متحدہ عرب امارات کی یونیورسٹی اور زید یونیورسٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو کی بھی منظوری دی۔
مواصلات کے دوسرے ذرائع میں شامل ہیں:
کابینہ Retreat
قومی امور اور سلامتی کی ترجیحات پر تبادلہ خیال کے لئے متحدہ عرب امارات کے کابینہ کے اراکین کا خصوصی اجلاس 2007 میں پہلی بار کابینہ Retreat کے ذریعے طلب کیا گیا۔
محمد بن راشد پالیسی کونسل
محمد بن راشد پالیسی کونسل عوام کے ساتھ رابطے کے ایک نئے ذریعے کی نمائندگی کرتی ہے اور تخلیقی اور جدید نظریات کے لئے ایک پلیٹ فارم ہے۔
محمد بن راشد اسمارٹ مجلس
محمد بن راشد اسمارٹ مجلس ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو ہر شخص کو دبئی کے مستقبل کی تعمیر میں حصہ لینے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ مختلف شعبوں میں دبئی کی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لئے ہر ایک کے لئے اپنے دروازے کھولتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم کے طور پر شیخ محمد کے اقدامات
وژن 2021
متحدہ عرب امارات کا وژن 2021 کا مقصد متحدہ عرب امارات کی فیڈریشن کے طور تشکیل کے پچاس سال مکمل ہونے پر متحدہ عرب امارات کو دنیا کے بہترین ممالک میں سے ایک بنانا ہے۔ وژن نے آئندہ برسوں میں چھ قومی ترجیحات کو حکومتی حکمت عملی کی بنیادی ترجیح کے طور پر متعین کیا:
- مربوط معاشرے اور شناخت کو برقرار رکھنا
- محفوظ عوامی اور منصفانہ عدلیہ
- مسابقتی علمی معیشت
- پہلی شرح تعلیم کا نظام
- عالمی معیار کی نگہداشت
- پائیدار ماحول اور بنیادی ڈھانچہ
متحدہ عرب امارات کا قومی ایجنڈا
متحدہ عرب امارات کا قومی ایجنڈا سات سالہ منصوبہ ہے جو متحدہ عرب امارات کے ویژن 2021 کی طرف جاتا ہے ،یہ متحدہ عرب امارات کے 50 ویں قومی دن کے ساتھ بھی ملتا ہے۔
اس میں تعلیم ، صحت کی دیکھ بھاپ ، معیشت ، پولیس اور سیکیورٹی ، رہائش ، انفرااسٹرکچر اور سرکاری خدمات کے شعبوں میں قومی ترقی شامل ہے ، جس کا مقصد ویژن 2021 کے مطابق متحدہ عرب امارات کی نمایاں پوزیشن واضح کرنا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی حکومت کی حکمت عملی کا منصوبہ
17 اپریل 2007 کو ، شیخ محمد نے ملک بھر میں پائیدار ترقی کے حصول ، وفاقی وسائل کو زیادہ موثر انداز حرچ کرنا، سرمایہ کاری اور وفاقی اداروں میں مستقل احتساب ، احتساب اور شفافیت کو یقینی بنانے کے مقصد کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے پہلے حکمت عملی منصوبے کو سامنے لائے۔
متحدہ عرب امارات کا یوم پرچم
نومبر 2013 کو ، شیخ محمد نے متحدہ عرب امارات کی عوام کو کہا کہ وہ ہر سال 3 نومبر کو ‘یوم پرچم’ منائیں۔اس دن کو منانے کی نسبت متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان کا بطور صدر حلف لینا تھا۔جو ان کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔
موبائل حکومت
22 مئی 2013 کو ، شیخ محمد نے عوام کو چوبیس گھنٹے بہترین خدمات کی فراہمی کے لئے موبائل حکومت کا اقدام اٹھانے کا اعلان کیا۔
محمد بن راشد مرکز برائے حکومت اINOVATION
شیخ محمد نے خود سے تحلیق کی حوصلہ افزائی اور ترغیب دینے کے لئے ستمبر 2014 میں گورنمنٹ انوویشن کے لئے محمد بن راشد سینٹر کا آغاز کیا۔
گورنمنٹ تخلیقی لیب
دسمبر 2013 میں متحدہ عرب امارات کی کابینہ کے اجلاس کے دوران ‘گورنمنٹ تخلیقی لیب’ کی نمایاں کامیابی کے بعد ، شیخ محمد نے تمام وفاقی سرکاری اداروں کو سرکاری خدمات کو ترقی دینے کے لئے سرکاری اور معیاری طرز کے طور پر ‘گورنمنٹ تخلیقی صلاحیت لیب’ کے تجربے کو اپنانے کی ہدایت کی۔
محمد بن راشد اسمارٹ لرننگ پروگرام
محمد بن راشد اسمارٹ لرننگ پروگرام ‘سمارٹ کلاسز’ کے قیام کے ذریعہ اسکولوں میں ایک منفرد سیکھنے کا ماحول قائم کرنے کے لئے شروع کیا گیا تھا۔
محمد بن راشد گورنمنٹ ایکسی لینس ایوارڈ
محمد بن راشد گورنمنٹ ایکسی لینس ایوارڈ شیخ خلیفہ گورنمنٹ ایکسلینس گورنمنٹ ایکسی لینس پروگرام (ایس کے جی ای پی) کی چھتری تلے سن 2009 میں شروع کیا گیا تھا ، جو سرکاری برتری کے لئے پہلا مربوط پروگرام تھا۔
امارات پروگرام برائے ایکسلینس برائے سرکاری خدمات
کارکردگی میں بہتری کے ذریعہ خدمات میں اعلی معیار کے حصول کے لئے امارات پروگرام برائے ایکسلنس ان گورنمنٹ سروسز مارچ 2011 میں شروع کیا گیا تھا۔
متحدہ عرب امارات کے پاینیرز ایوارڈ
شیخ محمد نے سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر اپنے پیروکاروں سے متحدہ عرب امارات کے 43 ویں قومی دن کی تقریبات کے دوران متحدہ عرب امارات میں پہلا 43 اعلی کامیابی حاصل کرنے والوں کو مختلف شعبوں میں نامزد کرنے کو کہا کیا۔یہ ایوارڈ ان کی قوم کے لئے خدمات اور ان کے روح رواں اور ان کے میدان میں پہلا مقام رکھنے کے اعزاز میں دیا گیا۔
وزیر eBrifecase اور نالج سنٹر
‘وزیر ای بریک کیس’ اور ‘نالج سنٹر’ کے اقدامات کا مقصد حکومتی کام میں الیکٹرانک تبدیلی کو مکمل پیمانے پر اپنانے کی تشکیل کرنا ہے۔
سرکاری مواصلات کے لئے قومی پروگرام
نیشنل پروگرام برائے گورنمنٹ کمیونیکیشن میں متعدد ملک گیر مواصلات اور آگاہی مہم شامل ہیں تاکہ قومی ایجنڈا کے ذریعہ ترجیح دیئے جانے والے اور متحدہ عرب امارات کے ویژن 2021 کے ذریعہ رہنمائی کرنے والے عوامی مسائل کو دور کیا جاسکے۔
متحدہ عرب امارات کی گرین نمو کی حکمت عملی
متحدہ عرب امارات کی گرین گروتھ اسٹریٹیجی اقدام کا مقصد ‘پائیدار ترقی کے لئے ایک گرین اکانومی’ کے نعرے کے تحت متحدہ عرب امارات کی سبز معیشت کی تعمیر کرنا ہے۔
U.ae
U.ae (پہلے گورنمنٹ.ae) متحدہ عرب امارات کی حکومت کا باضابطہ پورٹل ہے۔ یہ وفاقی اور لوکل حکومتی اداروں کے بارے میں تمام تفصیلات اکٹھا کرکے اور فراہم کرکے موثر خدمات کی فراہمی اور کارکردگی کو بڑھانے کے لئے حکومت کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ افراد ، زائرین ، کاروباری افراد کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کی حکومت سے براہ
راست رابطے کے لئے ضروری تمام معلومات فراہم کرتا ہے۔
Source : www.u.ae






