خلیج اردو
29 جنوری 2021
دبئی : متحدہ عرب امارات میں سیاحت کی غرض سے جانے والے سیاحوں کی وجہ سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق بیان بازی پر اسرائیل نے معافی مانگی لی۔ اسرائیل کے ایک اعلی عہدیدار نے بیان دیا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں سیاحت کی اجازت ہونے کی وجہ سے اسرائیل میں کورونا وائرس کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔
اسرائیل کی وزارت صحت میں محکمہ پبلک ہیلتھ کے سربراہ شارون الوروے پرائیس نے ریمارکس دیئے تھے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ امن کے دو ہفتے نے ستر سال کے جنگ کے مقابلے میں زیادہ اموات دیں ہیں۔ انہوں نے کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کا حوالا دے کر کہا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے سفری پابندیوں کے خاتمے کی وجہ سے زیادہ افراد وباء کی زد میں آئے۔
یہ بیان دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے ایک مہینہ بعد دیا گیا تھا جس میں دونوں ممالک کے درمیان سیاحتی دوروں میں اضافہ ہوا۔ اسرائیل کے چینل 13 نے اس بیان کو مزاق قرار دیا تھا تاہم اسرائیل کے وزیر اعظم آفس سے اس بیان پرمعذرت سامنے آئی ہے۔
اس بیان کی حقیقت جو بھی ہو اسرائیل کے وزیر اعظم آفس سے بیان جاری ہوا ہے کہ اس بیان میں کوئی حقیقت نہیں اور ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل سے اس بیان کے حوالے سے وضاحت مانگی تھی۔
جب سے اسرائیل نے امارات میں ایمبیسی کھولی ہے ، ہزاروں کی تعداد میں اسرائیلی باشندوں نے متحدہ عرب امارات کا سفر کیا۔ جنوری میں اسرائیل میں جب کورونا کیسز میں اچانک اضافہ ہوا تو وزیر اعظم نے ملک میں سخت لوک ڈاؤن کا اعلان کیا اور اسی کے تناظر میں جب اس بیان کو ٹی وی چینل نے نشر کیا تو متحدہ عرب امارات نے اس کی تردید کرتے ہوئے اسرائیلی حکام سے اس پر وضاحت مانگی جس پر اسرائیل نے معافی مانگتے ہوئے بیان کو حقیقت کے منافی قرار دیا ہے۔
Source : Gulf News







