
خلیج اردو
09 نومبر 2020
آج کل سوشل میڈیا پر کتے کی تصاویر ہر طرف نظر آتی ہے جو کہیں کھو گیا ہے اور اس کا مالک اسکو ڈھونڈ رہا ہے۔
گزشتہ پندرہ روز سے حاچی نامی اپنے پالتو کتے کے متلاشی لاہور کے رہائشی خواجہ نومان مقبول گلبرگ میں آرٹ گیلری چلاتے ہیں۔ نعمان مقبول کے مطابق 25 اکتوبر کو وہ کالا شاہ کاکو میں ایک ریس میں شرکت کے لیے گئے جہاں پر حاچی بھی ان کے ہمراہ تھا۔
نعمان مقبول کہتے ہیں کہجب وہ مقررہ جگہ پر پہنچے تو وہاں کافی رش تھا جس کے باعث انہوں نے ہاچی کو گاڑی کے پاس بٹھایا اور خود جگہ کا معائنہ کرنے چلے گئے تاہم جب وہ واپس لوٹے تو ہاچی وہاں موجود نہ تھا۔۔۔انہوں نے وہاں پر کافی دیر ہاچی کا انتظار کیا لیکن وہ نہیں آیا۔ نعمان مقبول نے بتایا کہ انہوں نے مریض کے تھانے میں ہاتھی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی تاہم ابھی تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا
۔
نعمان مقبول نے ہاتھی کو ڈھونڈ کر لانے والے کے لیے ایک لاکھ روپے کا اعلان کررکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہاتھی ایک ایسی نسل کا کتا ہے جس کو لوگ اس لیے چوری کرتے ہیں کہ ان سے بچے پیدا کروائے جا سکے تاہم ہاچی کی نس بندی ہونے کے باعث اسکے ساتھ ایسا ممکن نہیں۔ نعمان مقبول کے مطابق اکثر لوگ ان کو کتے کی تلاش چھوڑنے کا مشورہ دیتے ہیں تاہم وہ سب کو بتانا چاہتے ہیں کے ہاتھ میں ہیں ان کی کل کائنات ہے۔
نعمان مقبول ہاچی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ چالیس دن کا تھا جب ان کے پاس آیا اور اس وقت ہاچی کی عمر سات برس ہے اس پورے عرصے کے دوران وہ ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوئے۔۔۔نعمان مقبول حاچی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اس وقت جہاں بھی ہوگا اس انتظار میں ہوگا کہ میں اس کو لینے آؤں گا۔۔وہ جب تک زندہ رہے گا میرا انتظار کرے گا اور میں بھی اپنی آخری سانسوں تک اس کو تلاش کروں گا۔
نعمان مقبول سیر و سیاحت کے لیے اکثر اوقات شمالی علاقہ جات کا سفر کرتے ہیں جہاں پر ہاتھی بھی ان کے ہمراہ ہوتا ہے ان کے مطابق ہاچی اب ان علاقوں میں بھی شہرت رکھتا ہے۔ نعمان مقبول ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حمزہ کے ایک گاؤں میں میں انہوں نے ہاچی کی کمر تھپتھپا نے والے بچے کو آئس کریم کھلانے کا وعدہ کیا اور آخر میں ان کو پچاس آئسکریم خریدنی پڑیں۔
حاچی کے نام کے حوالے سے نعمان مقبول نے بتایا کہ ہاتھی کا نام انہوں نے جاپان کے ایک مشہور کتے "ہاچی کو”کے نام پر رکھا جس نے دس برس ایک ریلوے اسٹیشن پر اپنے مالک کا انتظار کیا تاہم اس کا مالک اپنی موت کے باعث واپس نہ آ سکا اور اس کتے نے اسی ریلوے اسٹیشن پر اپنی جان دے دی۔
SOurce> Independent Urdu







