
خلیج اردو
دبئی کے نجی اسکولوں میں نئے تعلیمی سال کے آغاز پر داخلوں میں 4.6 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد امارات کے نجی اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد 4 لاکھ 6 ہزار 563 تک پہنچ گئی، جبکہ جون 2026 میں یہ تعداد تقریباً 3 لاکھ 88 ہزار 731 تھی۔ طلبہ کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر دبئی میں نجی تعلیمی شعبے کی توسیع جاری ہے اور آئندہ دو تعلیمی سالوں کے دوران تقریباً 18 ہزار مزید کم لاگت تعلیمی نشستیں فراہم کیے جانے کی توقع ہے۔
رواں تعلیمی سال دبئی میں 26 نئے نجی تعلیمی ادارے قائم ہوئے ہیں، جن میں 7 اسکول، 17 ابتدائی بچپن کے مراکز اور 2 بین الاقوامی اعلیٰ تعلیمی ادارے شامل ہیں۔ نئے 7 اسکولوں نے تقریباً 17 ہزار اضافی نشستیں فراہم کی ہیں جبکہ ابتدائی بچپن کے نئے مراکز میں 1700 سے زائد بچوں کے لیے مزید گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق تعلیمی شعبے میں یہ توسیع ان خاندانوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے کی جارہی ہے جو دبئی میں رہائش اور اپنے بچوں کی تعلیم کو ترجیح دے رہے ہیں۔
نالج اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ڈائریکٹر جنرل عائشہ میران نے میڈیا مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی شعبے کی یہ ترقی دبئی کی طویل مدتی ایجوکیشن 33 حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد 2033 تک دبئی کے تعلیمی نظام کو طلبہ، خاندانوں، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی ضروریات کے مطابق مزید مضبوط بنانا ہے۔
عائشہ میران نے بتایا کہ گزشتہ دو تعلیمی سالوں کے دوران دبئی میں 51 نئے نجی تعلیمی ادارے قائم ہوئے، جن سے ابتدائی بچپن، اسکولوں اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں تعلیمی گنجائش میں اضافہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی نظام کو طلبہ کی بدلتی ضروریات کے مطابق بنانے، ان کی مہارتیں بہتر کرنے، شناخت مضبوط بنانے اور مواقع بڑھانے پر توجہ دی جارہی ہے۔
دبئی کے نجی اسکولوں نے پی آئی ایس اے 2025 کے تمام جائزہ شعبوں میں بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور دنیا کے 10 سرفہرست تعلیمی نظاموں میں شامل رہے۔ اماراتی طلبہ کے نتائج میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی، ریاضی میں اسکور 31 پوائنٹس، سائنس میں 30 پوائنٹس اور مطالعہ میں 18 پوائنٹس بہتر ہوئے۔
2026-27 کے تعلیمی سال کے لیے نالج اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اماراتی طلبہ کی زیادہ تعداد رکھنے والے اسکولوں کی کارکردگی بہتر بنانے، ثقافتی شناخت اور عربی زبان کی تعلیم مضبوط کرنے، طلبہ کی فلاح و تحفظ بہتر بنانے، والدین کو بااختیار بنانے اور کم لاگت تعلیم تک رسائی بڑھانے کو ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ مصنوعی ذہانت، مالیاتی تعلیم، مستقبل کی مہارتوں اور پیشہ ورانہ زندگی کے لیے طلبہ کی تیاری پر بھی توجہ دی جائے گی۔
نئے تعلیمی سال میں طلبہ، والدین اور اساتذہ کو تعلیمی شعبے کی ترقی میں براہ راست رائے دینے کے لیے نئی کونسلز بھی تشکیل دی جائیں گی۔ دبئی اسٹوڈنٹس کونسل کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا جبکہ پہلی دبئی پیرنٹس کونسل اور پہلی دبئی ایجوکیٹرز کونسل بھی قائم کی جائے گی۔ ان کونسلز کے ذریعے طلبہ، والدین اور اساتذہ کو تعلیمی نظام کی بہتری اور پالیسی سازی میں اپنی رائے دینے کا پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا۔
ایجوکیشن 33 حکمت عملی کے تحت والدین کی شمولیت پر بھی توجہ بڑھائی گئی ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران والدین کے لیے 20 سے زائد آگاہی سیشنز منعقد کیے گئے جن میں 5 ہزار سے زائد والدین نے شرکت کی۔ ان سیشنز میں مثبت تربیت، خاندانی مضبوطی، ڈیجیٹل تحفظ اور بچوں کو ذہنی دباؤ کے ادوار میں معاونت فراہم کرنے جیسے موضوعات شامل تھے۔
دبئی میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بھی توسیع جاری ہے۔ گزشتہ تین برس میں 11 نئے اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم ہوئے جبکہ داخلوں میں 29 فیصد اضافہ ہوا۔ امریکن یونیورسٹی آف بیروت کا دبئی کیمپس ستمبر 2026 میں کھل گیا ہے جبکہ پیکنگ یونیورسٹی ایچ ایس بی سی بزنس اسکول جنوری 2027 میں ایم بی اے اور ای ایم بی اے پروگرام شروع کرے گا۔
دبئی کے مجموعی نجی تعلیمی شعبے میں، جس میں ابتدائی بچپن کی تعلیم، اسکول اور اعلیٰ تعلیم شامل ہیں، گزشتہ تین تعلیمی سالوں کے دوران سالانہ 4.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ حکام کے مطابق ایجوکیشن 33 حکمت عملی کے اگلے مرحلے میں تعلیمی معیار، قابل رسائی اور کم لاگت تعلیم، پائیدار ترقی اور طلبہ، خاندانوں اور اساتذہ کو تعلیمی سفر کے مرکز میں رکھنے پر توجہ مرکوز رہے گی۔







