
خلیج اردو
’’ہمسائے ہمیشہ رہتے ہیں‘‘، عمان نے جنگ اور کشیدگی کے باوجود سفارت کاری کا راستہ کیوں نہیں چھوڑا؟ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران عمان نے غیر جانب داری برقرار رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ رابطے اور ثالثی کی کوششیں جاری رکھیں، حالانکہ رواں سال مارچ اور مئی میں عمان بھی ایرانی حملوں کی زد میں آیا تھا۔ عمان کی خارجہ پالیسی میں مکالمے، برداشت، عملی سوچ اور اچھے ہمسائیگی کے اصول بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو غیر قانونی فوجی کارروائی قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب امریکہ اور ایران کسی معاہدے کے قریب دکھائی دے رہے تھے اور عمان ان کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کر رہا تھا۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری پر مبارک باد دینے والا عمان واحد ملک تھا۔ بعدازاں عمان نے ایرانی حملوں کو اپنی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی بھی قرار دیا۔
عمان کی پالیسی کو طویل عرصے سے ’’سب کا دوست، کسی کا دشمن نہیں‘‘ کے اصول سے تعبیر کیا جاتا ہے، جس کے باعث اسے مشرق وسطیٰ کا سوئٹزرلینڈ بھی کہا جاتا ہے۔ عمان کے نزدیک ہمسائیگی کا تصور صرف مشترکہ زمینی سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ ان ممالک کو بھی شامل کرتا ہے جن کے ساتھ تاریخی، تجارتی اور تزویراتی تعلقات قائم ہیں۔ اسی لیے ایران کے علاوہ بھارت اور پاکستان بھی عمان کے اہم علاقائی روابط میں شمار ہوتے ہیں۔
عمان کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی اور طویل مدتی اقتصادی استحکام کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اسی پالیسی کے تحت وہ اختلافات کے باوجود رابطے ختم کرنے اور کسی ملک کو سفارتی طور پر الگ تھلگ کرنے سے گریز کرتا ہے۔ عمان کے مطابق حکومتیں اور پالیسیاں تبدیل ہوسکتی ہیں، لیکن جغرافیہ، عوام اور ثقافت مستقل رہتے ہیں، اس لیے طویل مدتی مشترکہ مفادات عارضی اختلافات سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔
آبنائے ہرمز عمان کی خارجہ پالیسی میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس کے ایک حصے پر عمان کی علاقائی سمندری حدود جبکہ دوسرے حصے پر ایران کی حدود واقع ہیں۔ اس آبی گزرگاہ سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل وابستہ ہے، جبکہ اس کی محفوظ آمدورفت عمان کی بندرگاہوں اور علاقائی معیشتوں کے لیے بھی اہم ہے۔ عمان کی بندرگاہ صحار اور فری زون نے علاقائی کشیدگی کے دوران عالمی بحری تجارت کے لیے اہم راستے کا کردار ادا کیا۔ 2026 کی پہلی ششماہی میں صحار بندرگاہ سے 5 کروڑ 20 لاکھ میٹرک ٹن سامان کی ترسیل ہوئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 52 فیصد زیادہ تھی۔
عمان ماضی میں بھی کئی اہم تنازعات میں ثالثی کرچکا ہے۔ 1980 سے 1988 کی ایران عراق جنگ کے دوران مسقط میں جنگ بندی کے لیے خفیہ مذاکرات ہوئے اور قیدیوں کے تبادلے میں بھی مدد دی گئی۔ 2017 میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ کے دوران عمان غیر جانب دار رہا، یہاں تک کہ 2021 میں خلیجی ممالک کے تعلقات بحال ہوئے۔ اسی طرح 6 مئی 2025 کو عمان نے امریکہ اور یمن کے حوثیوں کے درمیان جنگ بندی کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ جنگ سے پہلے عمان دونوں ممالک کے جوہری مذاکرات میں ثالثی کررہا تھا۔ 6 فروری کو مسقط اور 26 فروری کو جنیوا میں مذاکرات ہوئے، تاہم 28 فروری کے حملوں کے بعد عمان کی سفارتی کوششوں کا مرکز آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق معاملات بن گئے۔
اگست میں ایران نے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم کے معاہدے کی اطلاع دی۔ دونوں ممالک نے بحری جہازوں کے لیے سات میل چوڑا عارضی راستہ بھی طے کیا، جس میں اندر آنے والے جہاز ایرانی سمندری حدود اور باہر جانے والے جہاز ایرانی و عمانی حدود کے مختلف حصوں سے گزرتے ہیں۔ تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا کہ اس راستے کا تعین آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے مترادف نہیں اور معمول کی بحری آمدورفت امریکہ کی جانب سے 14 نکاتی اسلام آباد یادداشت کی شرائط پوری کیے جانے تک معطل رہے گی۔
عمان کی سفارت کاری کا بنیادی مقصد اختلافات کے باوجود رابطوں کو برقرار رکھنا، تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانا ہے۔







