
خلیج اردو
عرب ریڈنگ چیلنج کے دسویں ایڈیشن کے فاتحین کا اعلان 29 اکتوبر 2026 کو دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں منعقدہ اختتامی تقریب میں کیا جائے گا۔ مقابلے میں 60 ممالک کے 4 کروڑ سے زائد طلبہ نے حصہ لیا، جبکہ مجموعی انعامی رقم 1 کروڑ 10 لاکھ درہم رکھی گئی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کہا ہے کہ ملک عربی زبان کی خدمت اور ایسی نئی نسل کی تربیت کے لیے پرعزم ہے جو اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ترقی کا آغاز مطالعے اور علم سے ہوتا ہے۔
شیخ محمد بن راشد کا کہنا تھا کہ قوم کا مستقبل نوجوان ذہنوں کی تربیت سے وابستہ ہے اور مطالعے کے فروغ میں سرمایہ کاری دراصل بہتر مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عربی زبان صدیوں تک انسانی اور سماجی ترقی کا محرک رہی ہے اور نوجوانوں کی محنت اور ذہانت سے اسے دوبارہ اس کا سابقہ مقام دلایا جاسکتا ہے۔
محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشی ایٹوز کے زیر اہتمام اس سال کے مقابلے میں 60 ممالک کے 4 کروڑ سے زائد طلبہ شریک ہوئے، جو گزشتہ ایڈیشن کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہیں۔ ان میں خصوصی ضروریات کے حامل 74 ہزار 62 طلبہ بھی شامل ہیں۔ مقابلے میں عرب دنیا کے مجموعی اسکول طلبہ میں سے 48 فیصد نے حصہ لیا، جبکہ 1 لاکھ 38 ہزار 426 اسکولوں اور 1 لاکھ 61 ہزار 507 نگرانوں نے بھی اس سرگرمی میں شرکت کی۔
ادارے کے سیکریٹری جنرل محمد القرقاوی نے دسویں ایڈیشن کو اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ مقابلے میں 60 ممالک کے طلبہ شریک ہوئے اور شرکت کی تعداد 4 کروڑ سے تجاوز کرگئی۔
عرب ریڈنگ چیلنج کے مرکزی فاتح کو 5 لاکھ درہم، دوسرے نمبر پر آنے والے کو 1 لاکھ اور تیسرے نمبر کے امیدوار کو 70 ہزار درہم دیے جائیں گے۔ خصوصی ضروریات کے حامل طلبہ کی کیٹیگری میں پہلے نمبر کے لیے 2 لاکھ درہم، بہترین اسکول کے لیے 10 لاکھ درہم اور بہترین نگران کے لیے 3 لاکھ درہم کا انعام مقرر ہے۔ کمیونٹی چیمپئن کی کیٹیگری میں مجموعی طور پر 2 لاکھ درہم تقسیم کیے جائیں گے، جس میں عرب دنیا سے باہر کے طلبہ اور عربی سیکھنے والے غیر مقامی افراد بھی حصہ لے سکتے ہیں۔
2015 میں شیخ محمد بن راشد کی جانب سے شروع کیے گئے اس مقابلے میں شرکت پہلے ایڈیشن کے 36 لاکھ طلبہ کے مقابلے میں 1,019 فیصد بڑھ چکی ہے۔ مقابلے کا مقصد عرب دنیا اور دیگر ممالک کے طلبہ میں مطالعے کا شوق پیدا کرنا، زبان کی مہارت بہتر بنانا اور علم و عربی زبان سے مستقل وابستگی کو فروغ دینا ہے۔







