
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی اسکولوں کے اطراف ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا۔ دبئی سمیت مختلف ریاستوں میں صبح کے اوقات میں اسکول ڈراپ آف کے دوران گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگنے لگیں جبکہ اسکول ٹریفک کے دفتری اوقات کے رش کے ساتھ ملنے سے صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔ دبئی کے ایک والد کے مطابق ان کے بیٹے کو اسکول سے گھر پہنچنے میں تقریباً 40 منٹ لگتے ہیں حالانکہ گھر اور اسکول کے درمیان فاصلہ صرف 2 کلومیٹر ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ اسکول دوبارہ کھلنے کے بعد دبئی کے ایمریٹس ہلز اور ارابین رینچز سمیت مختلف علاقوں میں سڑکوں پر رش واضح طور پر بڑھ گیا ہے اور انہیں روزانہ اسکول جانے اور واپسی کیلئے اضافی وقت مختص کرنا پڑ رہا ہے۔ عجمان میں بھی اسکول انتظامیہ کے مطابق تعلیمی سال کے پہلے ہفتے میں معمول سے زیادہ ٹریفک دیکھا گیا تاہم خاندانوں اور اسکول اسٹاف کے نئی روٹین کے عادی ہونے کے ساتھ صورتحال بتدریج بہتر ہورہی ہے۔
آر ٹی اے کے اعداد و شمار کے مطابق 47 فیصد طلبہ نجی گاڑیوں جبکہ 44 فیصد اسکول بسوں کے ذریعے اسکول جاتے ہیں۔ ٹریفک کی روانی اور طلبہ کی حفاظت بہتر بنانے کیلئے دبئی کے 6 اسکول زونز میں سڑکوں، داخلی و خارجی راستوں اور پارکنگ کی اپ گریڈیشن بھی مکمل کی گئی ہے جبکہ ڈرائیورز کو اسکول زونز میں رفتار کم رکھنے اور پیدل چلنے والوں کا خاص خیال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔






