
خلیج اردو
نیویارک : متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کے سیکورٹی کونسل کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس میں یو این نے حوثی باغیوں کو دہشتگرد قرار دینے کی قرارداد منظور کی ہے۔
یہ پہلے مرتبہ ہوا ہے کہ اس ریجیم کو دہشتگرد گروہ قرار دیا گیا ہے۔
اس قرار داد میں نہ صرف حوثی ملیشیا کو بھی اسلحے کی پابندی کے تحت یمن پر لگنے والی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے بلکہ حوثی دہشت گرد گروپ کی طرف سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر پر سرحد پار حملوں کی مذمت بھی کی گئی ہے۔
قراردادمیں گروپ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسلحے سے متعلق لگنے والی پابندیوں کی فوری روک تھام کرے۔
قرارداد کا مقصد حوثیوں کی صلاحیت اور یمن میں جنگ میں اضافے کو محدود کرنا ہے۔ قرارداد میں بین الاقوامی بحری جہازوں اور بحری جہازوں پر حملے بند کرنے اور ان دہشت گردانہ حملوں کے پیش نظر یمن اور خطے میں شہریوں کی تکالیف کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
Today the UN Security Council adopted a resolution that labels the Houthis a terrorist group & lists them as an entity under UN sanctions for their egregious crimes. The Security Council’s vote condemns the Houthis’ cross border attacks in the strongest possible terms. 1/2
— د. أنور قرقاش (@AnwarGargash) February 28, 2022
اقوام متحدہ میں یو ای اے کے مستقل مندوب نصیبیح نے مطالبہ کیا ہے کہ دہشتگرد گروہ تخریبی کارروائیوں سے باز آئیں اور مذاکرات کی میز پر آئیں۔
لانا نصیبح کا کہنا ہے کہ اقوام عالم کو اس تنازع کے حل کیلئے کردار ادا کرنا چاہیئے تاکہ خطے کے امن کو داؤ پر لگنے سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے اس تناؤ کا سفارتی اور سیاسی حل تلاش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
Source: Khaleej Times







