متحدہ عرب امارات

ڈیجیٹل فراڈ پر بھارتی سپریم کورٹ کی بینکوں کو سخت سرزنش

خلیج اردو
نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے نام نہاد ’’ڈیجیٹل گرفتاریوں‘‘ کے ذریعے عوام سے اربوں روپے لوٹنے کے معاملات میں بعض بینکوں کی سنگین غفلت اور ممکنہ ملی بھگت پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے اپریل 2021 سے نومبر 2025 کے دوران 520 ارب روپے سے زائد رقم کے فراڈ کو ’’کھلی ڈکیتی‘‘ قرار دیا۔

چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران کہا کہ ایسے مقدمات میں بعض بینک اہلکار ملزمان کے ساتھ ’’ہاتھ میں ہاتھ ڈالے‘‘ نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بینک عوام کی امانت کے نگہبان ہیں، لیکن بعض ادارے اس اعتماد کو توڑ رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مسئلہ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب یہی بینک فراڈ میں ملوث افراد کو قرضے بھی دیتے ہیں اور بعد ازاں معاملہ این سی ایل ٹی اور این سی ایل اے ٹی تک پہنچ جاتا ہے، جب جعلی کمپنیاں دیوالیہ ہونے کے تنازعات میں الجھ جاتی ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں ہزاروں افراد، بالخصوص بزرگ شہری، ان گروہوں کا نشانہ بنے جو خود کو اعلیٰ پولیس یا سیکیورٹی اہلکار ظاہر کر کے فون پر ’’ڈیجیٹل گرفتاری‘‘ کا خوف دلاتے ہیں اور پھر مختلف حیلوں سے بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر کے لاکھوں اور کروڑوں روپے ہڑپ کر لیتے ہیں۔

اکتوبر میں ایک بزرگ جوڑے کی جانب سے سپریم کورٹ کو خط لکھا گیا تھا جس میں بتایا گیا کہ انہیں تفتیشی اداروں اور عدلیہ کے جعلی اہلکار بن کر 1 کروڑ 50 لاکھ روپے سے محروم کیا گیا۔ اس پر عدالت نے سی بی آئی کو تحقیقات کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ نے وزارت داخلہ کو ہدایت دی کہ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے 2 جنوری 2026 کو جاری کردہ ایس او پی کو باضابطہ طور پر نافذ کیا جائے، جس کے تحت سائبر فراڈ سے بچاؤ کے لیے مشتبہ اکاؤنٹس پر عارضی ڈیبیٹ ہولڈ لگایا جا سکے گا۔ عدالت نے دو ہفتوں میں قواعد نوٹیفائی کرنے کا بھی حکم دیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button