
خلیج اردو
سینیٹ میں سولر پالیسی اور نیپرا کے فیصلے پر شدید بحث ہوئی۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے قرارداد کی مخالفت کی جبکہ اپوزیشن نے سولر صارفین کے خلاف اقدامات کو عوام دشمن قرار دیا۔ حکومت نے گرین انرجی اہداف کا دفاع کیا اور نیپرا کو جواب دہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ تفصیل اس رپورٹ میں۔
سینیٹ میں چھتوں پر نصب شمسی نظام کے ذریعے بجلی پیدا اور استعمال کرنے والے صارفین کے تحفظ اور نیپرا کے مسودے کو قومی پالیسی سے ہم آہنگ کرنے کی قرارداد پیش کی گئی۔ قرارداد سینیٹر زرقاء سہروردی نے پیش کی جس کی وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے مخالفت کی۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ایوان کو بتایا کہ پی ٹی آئی دور میں بجلی کے نرخوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر تین گنا گری اور آج تک اس کے اثرات بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوری فیصلوں کے بجائے مناسب ٹرانزیشن کے ذریعے فیصلے کرنے کی تجویز دی گئی تھی تاکہ عام عوام کو مزید نقصان نہ ہو۔ اویس لغاری کا کہنا تھا کہ 2030 تک بجلی پیداوار کا 60 فیصد گرین انرجی پر منتقل ہو جائے گا، فرنس آئل کا استعمال تقریباً ختم ہو چکا ہے اور اگلے چار سال میں درآمدی ایندھن کا حصہ 4 فیصد تک لانے کا ہدف ہے۔
سینیٹر علی ظفر نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو سولر پینلز لگانے کی ترغیب دی گئی، لوگوں نے قرض لے کر لاکھوں روپے خرچ کیے، اب نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی کے ذریعے انہی صارفین پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ بجلی کے بلوں پر ٹیکس مسلسل بڑھ رہے ہیں، آئی پی پیز اژدھے کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ لوگ آف گرڈ جا رہے ہیں، انڈسٹری شدید دباؤ میں ہے اور معیشت مزید کمزور ہو رہی ہے۔ جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ملک کی معیشت کا بھٹہ بیٹھ چکا ہے۔
نیٹ میٹرنگ کیا ہے؟
نیٹ میٹرنگ ایسا نظام ہے جس کے تحت سولر پینلز لگانے والے صارفین اپنی ضرورت سے زائد پیدا ہونے والی بجلی قومی گرڈ کو فروخت کر سکتے ہیں۔ اس کے بدلے ان کے بجلی کے بلوں میں ایڈجسٹمنٹ یا ادائیگی کی جاتی ہے، یوں صارف بیک وقت بجلی استعمال بھی کرتا ہے اور فروخت بھی۔
نیپرا کی نئی پالیسی
سولر توانائی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بُری خبر سامنے آ گئی۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیشنل گرڈ کو بجلی فروخت کرنے کے ریٹس میں نمایاں کمی کر دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن نئے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2026 کے تحت جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پرانے سولر صارفین اپنی پیدا کردہ بجلی بدستور 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ کے پرانے نرخ پر نیشنل گرڈ کو فروخت کر سکیں گے، تاہم نئے صارفین کے لیے بجلی خریداری کی قیمت میں 17 روپے 19 پیسے فی یونٹ کی بڑی کمی کر دی گئی ہے۔
نئے ریگولیشنز کے تحت اب نئے نیٹ میٹرنگ صارفین کو فی یونٹ صرف 8 روپے 13 پیسے ادا کیے جائیں گے، جو پہلے کے مقابلے میں تقریباً تین گنا کم ہیں۔
اسی طرح نیپرا نے نیٹ بلنگ کا نیا نظام بھی متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت اب صارف کی پیدا کردہ بجلی کا یونٹ سرکاری بجلی کے یونٹ کے برابر تصور نہیں کیا جائے گا۔ صارف نیشنل گرڈ سے جتنی بجلی لے گا، اس پر حکومتی ٹیرف اور سلیب کے مطابق مکمل قیمت ادا کرنا ہو گی۔
نئے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے لائسنس کی مدت بھی 7 سال سے کم کر کے 5 سال کر دی گئی ہے۔
پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے مطابق ملک بھر میں اس وقت تقریباً 7 ہزار میگاواٹ صلاحیت کے نیٹ میٹرنگ سولر سسٹمز نصب ہو چکے ہیں، جبکہ 13 سے 14 ہزار میگاواٹ صلاحیت کے ایسے صارفین کا تخمینہ ہے جو آف گرڈ سولر سسٹمز کے ذریعے بجلی پیدا کر رہے ہیں۔







