
خلیج اردو
دبئی: بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی کشیدگی ایک بار پھر عالمی کرکٹ پر اثر انداز ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جس کے باعث کرکٹ کے اولمپکس میں مستقل مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اگرچہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھارت–پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ تنازع حل کرنے پر تعریف سمیٹی، مگر جنوبی ایشیا کی سیاست اب بھی کھیل کے عالمی خواب پر سایہ فگن ہے۔
کرکٹ 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس میں 1900 کے بعد پہلی بار دوبارہ شامل ہو رہی ہے، جہاں آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے ذریعے نئے ناظرین کو متوجہ کرنے کی امید رکھتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق خطے کی سیاسی کشیدگی اس طویل المدتی منصوبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
سیاسی تنازع اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب پاکستان نے 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے ہٹانے کے خلاف احتجاج میں کیا گیا تھا، جس نے سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنے میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔
آئی سی سی بورڈ نے بنگلہ دیش کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اسے ٹورنامنٹ سے ہٹا کر اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ بعد ازاں آئی سی سی، پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ہنگامی اجلاس کے بعد معاملہ وقتی طور پر حل ہو گیا۔
سینئر بھارتی صحافی چندر شیکھر لتھرا کے مطابق یہ حل عارضی ہے اور اگر آئی سی سی واقعی کرکٹ کو عالمی اولمپک کھیل بنانا چاہتی ہے تو اسے بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کو طاقتور بورڈز، خصوصاً بھارتی بورڈ کے سیاسی دباؤ سے آزاد ہونا ہوگا۔
پاکستانی کرکٹ مبصر نعمان نیاز نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کھیل میں سیاست کا بڑھتا عمل خود بھارت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ 2036 کے اولمپکس کی میزبانی کے لیے سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ ان کے مطابق انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی غیر جانبداری کو بہت اہمیت دیتی ہے اور ایسے تنازعات کو نظرانداز نہیں کیا جاتا۔
نعمان نیاز نے اس کے باوجود کہا کہ وہ ذاتی طور پر بھارت کو اولمپکس کی میزبانی کرتے دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن کھیل کو سیاسی تنازعات سے دور رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔







