متحدہ عرب امارات

ابوظہبی میں کرایوں میں اضافے پر عارضی پابندی، بڑھتی ہوئی رہائشی لاگت کے درمیان مارکیٹ کو مستحکم کرنے کی کوشش

خلیج اردو
ابوظہبی حکومت کی جانب سے رہائشی اور تجارتی جائیدادوں کے کرایوں میں اضافے پر عارضی پابندی کو ماہرینِ معیشت اور رئیل اسٹیٹ تجزیہ کار مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے لیے ایک اہم اقدام قرار دے رہے ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کرایوں میں تیزی سے اضافہ اور خطے میں غیر یقینی صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے۔

جون 2026 میں متعارف کرائی گئی اس پالیسی کے تحت مکان مالکان کو موجودہ "توثیق” رجسٹرڈ معاہدے کے مطابق ہی کرایہ تجدید کرنا ہوگا۔ اس طرح عملی طور پر کرایوں میں کسی بھی اضافے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ ماضی میں سالانہ 5 فیصد اضافے کی حد مقرر تھی۔

رپورٹ کے مطابق ابوظہبی میں رہائشی کرایوں میں اوسطاً 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ سرمایہ کاری کے مخصوص علاقوں میں کرایے 23 فیصد تک بڑھ چکے ہیں۔ بڑھتی ہوئی طلب، سرکاری شعبے کی ضروریات اور بلند شرحِ رہائش کو اس اضافے کی بڑی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرایوں پر کنٹرول دنیا کے مختلف ممالک میں معاشی دباؤ یا بحران کے دوران استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ کورونا وبا کے دوران برطانیہ اور کینیڈا سمیت کئی ممالک نے کرایوں میں اضافے اور بے دخلیوں پر عارضی پابندیاں عائد کی تھیں تاکہ کرایہ داروں کو مالی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

اقتصادی ماہرین اس پالیسی کے طویل المدتی اثرات پر مختلف آراء رکھتے ہیں۔ حامیوں کے مطابق اس سے خاندانوں اور کاروباروں کو اچانک بڑھنے والے کرایوں سے تحفظ ملے گا اور مالی استحکام پیدا ہوگا۔ دوسری جانب ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ طویل عرصے تک ایسی پابندیاں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی، رہائشی یونٹس کی کمی اور جائیدادوں کے معیار میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔

ابوظہبی میں کمرشل ویلیوایشن کے ڈائریکٹر اینڈریو لیور کے مطابق کرایوں کے منجمد ہونے سے سرمایہ کاروں کو قلیل مدت میں آمدنی کے تخمینے لگانے میں زیادہ یقین حاصل ہوگا۔ ان کے بقول اگرچہ فوری منافع میں کچھ کمی آ سکتی ہے، لیکن اس کے بدلے مارکیٹ میں استحکام اور اعتماد بڑھے گا۔

رپورٹ کے مطابق ابوظہبی کی صورتحال دنیا کے کئی دیگر شہروں سے مختلف ہے کیونکہ یہاں آبادی میں مسلسل اضافہ، مضبوط مالی صلاحیت اور نسبتاً نئی رینٹل مارکیٹ موجود ہے۔ اسی لیے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام مستقل مداخلت کے بجائے ایک عارضی حفاظتی انتظام ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر اس کے ساتھ رہائشی اور تجارتی منصوبوں کی فراہمی میں اضافہ جاری رکھا جائے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button