
خلیج اردو
فلپائن میں سرگرم قانون سازوں نے نائب صدر سارا دوتیرتے کے خلاف مواخذے کی درخواست ایک بار پھر ایوانِ نمائندگان میں دائر کر دی ہے۔ یہ اقدام صدر فرڈیننڈ مارکوس جونیئر کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع ہونے کے صرف 15 دن بعد سامنے آیا ہے۔
یہ عالمی سیاست میں ایک غیر معمولی صورتحال ہے جہاں فلپائن کے اعلیٰ ترین دو سیاسی رہنما بیک وقت مواخذے کی شکایات کا سامنا کر رہے ہیں۔ صدر مارکوس پر قومی بجٹ میں بدعنوانی کو ممکن بنانے کے الزامات ہیں، جبکہ ان کی ممکنہ جانشین سارا دوتیرتے پر بھی کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
مکابیان (محب وطن) اتحاد سے تعلق رکھنے والے ترقی پسند ارکانِ پارلیمنٹ نے 2 فروری کو دوتیرتے کے خلاف پانچویں بار مواخذے کی درخواست دائر کی۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے تکنیکی بنیادوں پر ان کے خلاف دائر چار شکایات کو ’’غیر آئینی‘‘ قرار دے دیا تھا، جن کی مدت گزشتہ دسمبر میں ختم ہو چکی تھی۔
درخواست گزار ارکان انتونیو ٹینیو، رینی کو اور سارہ ایلاگو کا کہنا ہے کہ دوتیرتے نے ’’اختیارات کے سنگین غلط استعمال‘‘ کے تحت کم از کم 612.5 ملین پیسو کے فنڈز کا حساب دینے سے انکار کیا۔ الزام ہے کہ یہ رقم خفیہ سرگرمیوں کے لیے سیف ہاؤسز کے کرائے اور مشتبہ نقد امدادی اسکیموں پر خرچ کی گئی، جو ان کے زیر انتظام اداروں کے دائرہ اختیار میں نہیں آتیں۔
اس سے قبل ایک مشترکہ شکایت میں یہ الزام بھی شامل تھا کہ دوتیرتے نے 2024 میں سیاسی اتحاد ٹوٹنے کے بعد صدر مارکوس کو قتل کی دھمکی دی۔ تاہم سینیٹ قیادت نے اس وقت مواخذے کی سماعت آگے بڑھانے سے انکار کر دیا تھا، جسے بعد ازاں سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔
مکابیان اتحاد صدر مارکوس کے خلاف دوسری مواخذہ درخواست کا بھی حامی ہے، جس میں ان پر ’’آئین کی سنگین خلاف ورزی، غداری، رشوت، بدعنوانی اور عوامی اعتماد سے غداری‘‘ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔







