
خلیج اردو
یو اے ای میں 31 جنوری کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئیٹرز نے نئے ایڈورٹائزر پرمٹ کے حصول کے اپنے تجربات شیئر کیے ہیں۔ بیشتر کریئیٹرز نے آخری لمحات کی رش کے باوجود درخواست کے عمل کو آسان اور ہموار قرار دیا۔
یہ ایڈورٹائزر پرمٹ جولائی میں متعارف کرایا گیا تھا، جس کے تحت آن لائن ادا شدہ یا غیر ادا شدہ تشہیری مواد شائع کرنے والے افراد کے لیے پرمٹ لازمی قرار دیا گیا۔ خلاف ورزی کی صورت میں 5 لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اکتوبر میں حکام نے رجسٹریشن کی مدت بڑھا کر 31 جنوری 2026 تک کر دی تھی۔
دبئی میں مقیم کانٹینٹ کریئیٹر یاسمین ایم نے بتایا کہ انہوں نے ہفتے کے اختتام پر امیر سروس سینٹر سے درخواست مکمل کی، جو آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں ہو گئی۔ ان کے مطابق ’’شناختی دستاویز دی، تقریباً 20 منٹ انتظار کیا، اور چند گھنٹوں یا ایک دن میں منظوری کی اطلاع دینے کا کہا گیا۔‘‘
دیگر درخواست دہندگان نے بھی سوشل میڈیا پر ملتے جلتے مثبت تجربات بیان کیے۔ دبئی کی رہائشی مریم صالح نے کہا کہ وہ خود کو پیشہ ور کریئیٹر نہیں سمجھتیں مگر احتیاطاً پرمٹ کے لیے اپلائی کیا۔ ان کے مطابق ’’عمل واضح تھا، اس لیے رسک نہیں لیا۔‘‘
کچھ درخواستوں کو ابتدائی طور پر مسترد بھی کیا گیا۔ ایک درخواست گزار امینہ (فرضی نام) کے مطابق مواد کے جائزے کے بعد ان کی درخواست رد کر دی گئی، تاہم وجہ واضح نہیں بتائی گئی اور انہوں نے اپیل دائر کر دی ہے۔
قواعد کے مطابق یہ پرمٹ ایک سال کے لیے مؤثر ہوگا اور ہر سال تجدید لازم ہے، بصورت دیگر 30 دن بعد منسوخ ہو جائے گا۔ درخواست دہندگان کی عمر کم از کم 18 سال ہونی چاہیے، جبکہ کم عمر افراد کے لیے قانونی سرپرست کے نام پر لائسنس جاری کیا جا سکتا ہے۔







