متحدہ عرب امارات

طلبہ کاروباری افراد کو اعتماد اور وقت کے انتظام میں مشکلات کا سامنا، شیراء کی سی ای او

خلیج اردو

شیراء (شارجہ انٹرپرینیورشپ سینٹر) کی چیف ایگزیکٹو آفیسر سارہ النعیمی کا کہنا ہے کہ طالب علم پہلے سے کہیں کم عمر میں کاروباری دنیا میں قدم رکھ رہے ہیں، تاہم اعتماد کی کمی، وقت کا درست انتظام اور عملی تجربے کا فقدان ان کے لیے سب سے بڑے چیلنجز بنے ہوئے ہیں۔

سارہ النعیمی کے مطابق سب سے اہم مسئلہ ابتدائی اور عملی ایکسپوژر کا نہ ہونا ہے، جو اس بات کا تعین کرتا ہے کہ طلبہ کاروبار کے عملی تقاضوں کو کس حد تک سمجھ پاتے ہیں۔
“طلبہ بانی اپنی تعلیمی زندگی کے ساتھ ساتھ کاروبار کا آغاز کر رہے ہیں، اس مرحلے پر انہیں کلاس روم سے باہر حقیقی کاروباری تجربات، فیصلوں اور راستوں سے روشناس ہونا سب سے زیادہ ضروری ہے،” انہوں نے خلیج ٹائمز کو بتایا۔

شیراء ایک شارجہ میں قائم سرکاری سرپرستی میں چلنے والا ادارہ ہے جو اسٹارٹ اپس کے لیے انکیوبیٹر کا کردار ادا کرتا ہے۔ ادارہ اب تک 180 سے زائد اسٹارٹ اپس کی معاونت کر چکا ہے، جن میں نصف سے زیادہ خواتین کی قیادت میں ہیں، جبکہ 18 ہزار سے زائد نوجوانوں کو تربیت دی جا چکی ہے اور مجموعی طور پر 248 ملین ڈالر (903 ملین درہم) سے زائد کی آمدن پیدا کی گئی ہے۔

سارہ النعیمی نے کہا کہ اس نوعیت کے پلیٹ فارمز طلبہ کاروباری افراد کے لیے نہایت اہم ہیں۔ اس ہفتے شارجہ انٹرپرینیورشپ فیسٹیول میں سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور WHOOP، Kitopi اور Revolutionary جیسے بڑے اداروں کے نمائندے شرکت کریں گے، جو طلبہ کو تعلیمی ماحول سے نکل کر عملی دنیا میں قدم رکھنے کا موقع فراہم کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے مواقع طلبہ میں اعتماد پیدا کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں، کیونکہ بہت سے نوجوان صلاحیت ہونے کے باوجود صرف اس تذبذب کا شکار رہتے ہیں کہ کہاں سے اور کب آغاز کیا جائے۔ حقیقی کاروباری کہانیاں اس غیر یقینی صورتحال کو سیکھنے کے عمل کا حصہ بنا دیتی ہیں۔

انہوں نے طلبہ کے قائم کردہ ایک اسٹارٹ اپ “اشارہ” کی مثال دی، جو سماعت سے محروم افراد کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی عربی اشاروں کی زبان کا پلیٹ فارم ہے۔ یہ منصوبہ انکیوبیشن، رہنمائی اور عملی تجربات کے مراحل سے گزر کر کلاس روم کے تصور سے ایک فعال کاروبار میں تبدیل ہوا۔

سارہ النعیمی کے مطابق درست رہنمائی اور معاون ماحول میسر ہو تو طلبہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کامیاب کاروباری بن سکتے ہیں، جو مستقبل کی معیشت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button