متحدہ عرب امارات

وادی شام: راس الخیمہ کے پہاڑی دیہات میں زندگی کی ایک جھلک

خلیج اردو
راس الخیمہ کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں واقع وادی شام ایک ایسی طرزِ زندگی کی عکاس ہے جس سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ یہاں کے بکھرے ہوئے دیہات میں زندگی کا انحصار مشترکہ وسائل، صبر و برداشت اور نسل در نسل منتقل ہونے والی روایات پر تھا۔

وادی شام کے رہائشی سعید عبداللہ الزاہوری، جو اب 60 برس کے ہیں، اپنے بچپن کو سادگی اور مشقت سے بھرپور قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق آزادانہ چرنے والی بھیڑیں، احتیاط سے جمع کیا گیا پانی اور باہمی رشتوں کی مضبوطی اس دور کی پہچان تھی۔
“زندگی سخت ضرور تھی، مگر اپنی روایات اور ورثے سے بھرپور تھی،” انہوں نے کہا۔

سعید عبداللہ الزاہوری نے خلیج ٹائمز کو ان دور افتادہ بستیوں کا دورہ کراتے ہوئے ایک ایسی دنیا سے روشناس کرایا جو آج بھی جدید زندگی کی چکاچوند سے دور خاموشی سے قائم ہے۔

وادی شام کے چھوٹے دیہاتوں میں سے ایک احبابٹ کا علاقہ تھا، جہاں بمشکل دس گھر تھے۔ یہاں کے مکین گندم اگاتے اور بھیڑ بکریاں پالتے تھے، جبکہ مکانات پہاڑی کنکری، لکڑی اور مقامی وسائل سے تعمیر کیے جاتے تھے۔

الغبشہ گاؤں میں آٹھ کے قریب گھر تھے، جن میں سے بعض 1940ء سے بھی پہلے کے تھے۔ ان روایتی گھروں کو “بیت القفل” کہا جاتا تھا، جو سخت موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے خاص طرز پر تعمیر کیے جاتے تھے۔ یہ گھر بیک وقت رہائش، کھانا پکانے اور خوراک ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

گرمیوں میں خاندان ٹھنڈے علاقوں مثلاً الارشن اور الغبّام منتقل ہو جاتے، جبکہ بعض اوقات فجیرا تک پانچ سے سات دن کا پیدل سفر بھی کیا جاتا۔ واپسی پر کھجوریں اور خشک مچھلی لائی جاتی، اس موسمی نقل مکانی کو مقامی طور پر “الحدر” اور “التربیہ” کہا جاتا تھا۔

پانی کے ذخیرے کے لیے مقامی افراد خاص مٹی “الجص” استعمال کرتے تھے، جس سے حوض اور ذخائر تیار کیے جاتے۔ بارش کا پانی نالیوں کے ذریعے جمع کیا جاتا اور فلٹر ہو کر استعمال کے قابل بنتا، جو پہاڑی زندگی کے لیے نہایت اہم تھا۔

کھیتی باڑی، شہد، پنیر اور تندور کی روٹی مقامی معیشت کا حصہ تھے۔ 1973 اور 1974 کے سالوں کو سبزہ اور فصلوں کی فراوانی کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ ہر گاؤں کسی نہ کسی خاص قسم کے شہد کے لیے مشہور تھا، جس سے خود کفالت کو فروغ ملتا۔

قیامِ متحدہ عرب امارات کے بعد، بالخصوص 1970ء کی دہائی کے وسط میں، مرحوم شیخ زاید کی رہنمائی میں پہاڑی علاقوں کے مکینوں کو جدید رہائشی بستیوں میں منتقل ہونے کی ترغیب دی گئی۔ سرکاری گھروں میں بجلی، پانی اور بنیادی سہولیات میسر آئیں، جس سے زندگی میں نمایاں بہتری آئی، تاہم سماجی رشتے اور روایات برقرار رہیں۔

وادی شام کی کہانی ایک ایسی دنیا کی عکاس ہے جہاں زندگی سادہ، مشکل مگر فطرت اور برادری سے گہرے ربط میں جڑی ہوئی تھی، جو راس الخیمہ کے دیہات اور ثقافتی ورثے کو سمجھنے کے لیے ایک اہم مثال ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button