
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں شدید گرمی کے دوران ماہرین نے ڈرائیوروں کو خبردار کیا ہے کہ زیادہ درجہ حرارت گاڑی کے انجن، بیٹری، ٹائروں، اے سی اور بریکنگ سسٹم پر شدید دباؤ ڈالتا ہے، جس سے اچانک خرابی، مہنگی مرمت اور خطرناک حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق گرمیوں میں سامنے آنے والے 45 سے 60 فیصد گاڑیوں کے مسائل انجن کے زیادہ گرم ہونے، بیٹری، ایئر کنڈیشننگ اور ٹائروں سے متعلق ہوتے ہیں، تاہم بروقت دیکھ بھال اور باقاعدہ مینٹیننس سے ان میں سے بیشتر مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔
انجن کولنگ سسٹم کو نظر انداز کرنا سب سے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کولنٹ کی کمی، لیکیج یا کولنگ سسٹم میں خرابی انجن کو اوور ہیٹ کر سکتی ہے، جبکہ بعض صورتوں میں گاڑی میں آگ لگنے کا بھی خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
شدید گرمی بیٹری کی عمر بھی کم کر دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں بیٹری سے متعلق سروس کی درخواستوں میں 25 سے 35 فیصد اضافہ دیکھا جاتا ہے، کیونکہ زیادہ درجہ حرارت بیٹری پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔
ٹائروں کے حوالے سے بھی خصوصی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔ گرمی میں ٹائروں کے اندر ہوا پھیلنے سے پریشر بڑھ جاتا ہے، جس سے ٹائر پھٹنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ کم ہوا والے ٹائر بھی سائیڈ والز کو نقصان پہنچا کر حادثات کا سبب بن سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ڈرائیوروں کی سب سے بڑی غلطی گاڑی کے ابتدائی وارننگ سگنلز کو نظر انداز کرنا ہے۔ انجن کا درجہ حرارت بڑھنا، غیر معمولی آوازیں، ڈیش بورڈ پر وارننگ لائٹس یا اے سی کی کمزور کارکردگی کو نظر انداز کرنے سے معمولی خرابی سنگین مسئلے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ گرمیوں میں گاڑی کو ہمیشہ شیڈ یا ڈھکی ہوئی جگہ پر پارک کریں، لمبے سفر سے پہلے مکمل معائنہ کریں، ایمرجنسی کٹ گاڑی میں رکھیں اور باقاعدہ مینٹیننس ہرگز مؤخر نہ کریں۔
ماہرین نے سفر سے پہلے B.L.O.W.B.A.G.E.T.S چیک لسٹ پر عمل کرنے کی بھی ہدایت دی، جس میں بریکس، لائٹس، انجن آئل، کولنٹ اور واشر فلوئیڈ، بیٹری، ٹائر پریشر، فیول، انجن، ٹائروں کی حالت اور ڈرائیور کی اپنی جسمانی کیفیت کا جائزہ لینا شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گاڑی محفوظ اور بہترین حالت میں ہوگی تو ڈرائیور اور مسافروں کی حفاظت بھی یقینی ہوگی۔







