متحدہ عرب امارات

شیخ محمد نے ‘دبئی اٹ’ فلسفہ متعارف کرا دیا، غیر معمولی نتائج کم ترین وقت میں حاصل کرنے کا نیا وژن سامنے آ گیا

خلیج اردو
محمد بن راشد آل مکتوم نے "دبئی اٹ” نامی نئے اقدام کا آغاز کرتے ہوئے دبئی کی کامیابی کے بنیادی فلسفے کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق دبئی کا طرزِ عمل اس اصول پر قائم ہے کہ "ہم وہی کہتے ہیں جو کرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو کہتے ہیں۔”

شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے کہا کہ دبئی کی کامیابی غیر معمولی نتائج کو ریکارڈ وقت میں درستگی اور اعلیٰ معیار کے ساتھ حاصل کرنے میں پوشیدہ ہے۔ ان کے بقول رفتار کا مطلب جلد بازی نہیں جبکہ معیار کا مطلب سست روی بھی نہیں، اور عملدرآمد کے بغیر بلند عزائم کی کوئی اہمیت نہیں۔

انہوں نے "دبئی اٹ” کو ایک فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب کم ترین وقت میں بہترین انداز سے کوئی غیر معمولی کام مکمل کرنا ہے۔ ان کے مطابق یہی وہ سوچ ہے جس نے صحرا کو مختصر مدت میں ایک عالمی شہر میں تبدیل کر دیا۔

یہ فلسفہ دبئی کے نمایاں منصوبوں میں واضح طور پر نظر آتا ہے، جن میں دبئی میٹرو، ایکسپو 2020 دبئی، ہوائی اڈوں کی توسیع، سڑکوں کے بڑے منصوبے، برج خلیفہ اور پام جمیرہ شامل ہیں، جنہوں نے دبئی کی عالمی شناخت کو مضبوط بنایا۔

کووڈ۔19 وبا کے دوران بھی دبئی نے تیز رفتار فیصلوں اور مؤثر عملدرآمد کا مظاہرہ کیا۔ صحت عامہ کے اقدامات، بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ اور ویکسینیشن مہمات، اور مرحلہ وار معاشی سرگرمیوں کی بحالی نے دبئی کو دنیا کے کئی شہروں کے مقابلے میں جلد اقتصادی بحالی کی راہ پر گامزن کیا۔

دبئی نے پالیسی سازی میں بھی اسی سوچ کو اپنایا۔ باصلاحیت افراد کو متوجہ کرنے کے لیے گولڈن ویزا اور ریموٹ ورک پرمٹ جیسے اقدامات متعارف کرائے گئے، جس سے امارات کی حیثیت کاروبار، ٹیلنٹ اور جدت کے عالمی مرکز کے طور پر مزید مستحکم ہوئی۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button