متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں حالیہ دنوں کے دوران غیر معمولی سردی کی لہر نے شہریوں کو حیران کر دیا ہے، جس کے پس منظر میں عالمی موسمی عوامل کارفرما ہیں۔

خلیج اردو
نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی (این سی ایم) کے ڈائریکٹر میٹرولوجی ڈاکٹر محمد العبری کے مطابق یہ سردی کسی مقامی وجہ کا نتیجہ نہیں بلکہ عالمی موسمی رجحان لا نینا سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ سردی دو ایسے عالمی مظاہر کا نتیجہ ہے جن کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں”۔

ڈاکٹر العبری کے مطابق لا نینا بحرالکاہل میں سمندری درجہ حرارت کے معمول سے کم ہونے کے باعث پیدا ہوتی ہے، جس سے ہوا اور دباؤ کے عالمی نظام متاثر ہوتے ہیں اور شمالی نصف کرے میں سرد ہوا کے دباؤ میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کے اثرات امارات تک پہنچتے ہیں۔

عالمی موسمیاتی تجزیوں کے مطابق لا نینا کی کمزور مگر قلیل مدتی صورتحال موجود ہے، جبکہ عالمی ادارہ موسمیات کے مطابق آئندہ مہینوں میں اس کے برقرار رہنے کے امکانات تقریباً 55 فیصد ہیں، جس کے بعد حالات معمول پر آنے کی توقع ہے۔

یورپ اور شمالی امریکا میں بھی پولر ورٹیکس میں بگاڑ کے باعث شدید سردی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ جنوبی نصف کرے میں صورتحال مختلف ہے۔ آسٹریلیا کے بعض حصوں میں جنوری کے دوران 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا، جو اس بات کی مثال ہے کہ لا نینا کے دوران بھی شدید گرمی ممکن ہے۔

ڈاکٹر العبری کا کہنا ہے کہ امارات میں سردی کی لہریں کوئی نئی بات نہیں اور حالیہ درجہ حرارت ریکارڈ سطح تک نہیں پہنچا، تاہم موسمیاتی تغیر کے باعث ایل نینو اور لا نینا جیسے رجحانات کی شدت اور تکرار میں اضافہ ہو رہا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند دنوں تک سردی برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ 25 جنوری کے آس پاس شمالی اور مشرقی علاقوں میں ہلکی بارش بھی ہو سکتی ہے، اس کے بعد موسم میں بتدریج بہتری متوقع ہے۔

یہ موسمی صورتحال اس امر کی عکاس ہے کہ عالمی موسمیاتی تبدیلی نہ صرف درجہ حرارت بلکہ موسم کے روایتی انداز کو بھی زیادہ غیر یقینی اور متغیر بنا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button