
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں گرمیوں کی طویل تعطیلات شروع ہوتے ہی والدین کے لیے بچوں کو مصروف، متحرک اور اسکرین سے دور رکھنے کا چیلنج ایک بار پھر سامنے آ گیا ہے۔ کئی خاندان مہنگے سمر کیمپوں کے بجائے مقامی سیاحت، گھریلو سرگرمیوں اور مختصر تفریحی دوروں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
دبئی کی رہائشی ام ہاشر، جو دو بچوں کی والدہ ہیں، نے بتایا کہ اس سال ان کا بیرون ملک سفر کا کوئی منصوبہ نہیں، اس لیے وہ بچوں کو گھریلو سرگرمیوں، شاپنگ مالز، انڈور تفریحی مراکز اور تعلیمی پروگراموں میں مصروف رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک عام خاندانی تفریحی دورے پر تقریباً 300 سے 600 درہم خرچ آ جاتا ہے، جبکہ بچوں کو سمر کیمپ میں داخل کرانے پر تقریباً ایک ہزار درہم خرچ ہوئے، جو ان کے مطابق نسبتاً سستا تھا، لیکن اس کی مدت بھی کم تھی۔
ام ہاشر کا کہنا تھا، "ایک سے زیادہ بچوں والے خاندانوں کے لیے سمر کیمپ بہت مہنگے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ مناسب قیمت پر مزید پروگرام متعارف کرائے جائیں یا حکومت اس شعبے میں مزید معاونت فراہم کرے۔”
تین بچوں کی والدہ عائشہ الدرمکی نے بھی بتایا کہ ان کے بچوں نے نجی سمر کیمپوں میں داخلہ لیا ہے، تاہم ان کی فیس بہت زیادہ ہے، جبکہ ایک خاندانی سیر و تفریح پر ایک ہزار سے پندرہ سو درہم تک خرچ آ جاتا ہے۔
چار بچوں کی والدہ ام حمد نے اس سال بیرون ملک تعطیلات منانے کے بجائے متحدہ عرب امارات کے اندر فارم ہاؤسز، ہوٹلوں اور سیاحتی مقامات کی سیر کو ترجیح دی ہے۔ ان کے مطابق ہر تفریحی دورے پر تقریباً ایک ہزار درہم خرچ ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اسے بیرون ملک سفر سے بہتر سمجھتی ہیں۔
انہوں نے کہا، "متحدہ عرب امارات میں ہر سہولت موجود ہے۔ بہتر ہے کہ بچے اپنے ملک کو دیکھیں، مختلف علاقوں کو جانیں اور یہاں کی خوبصورتی سے واقف ہوں۔”
دوسری جانب کئی خاندانوں کو مفت سمر کیمپوں میں جگہ نہ ملنے کی شکایت بھی ہے۔ دبئی کے علاقے العویر کی رہائشی مریم الیاسی نے بتایا کہ ان کا بجٹ نجی سمر کیمپوں کی اجازت نہیں دیتا، جبکہ مفت کیمپوں کی تمام نشستیں پہلے ہی بھر چکی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی ایک بیٹی توجہ کی کمی کے عارضے کا شکار ہے، اس لیے اس کے لیے مناسب سرگرمیاں تلاش کرنا مزید ضروری ہے۔ اب ان کا خاندان گرمیوں کی تعطیلات نئے گھر میں گزارنے اور ملک کے مختلف علاقوں کی سیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جہاں ایک عام تفریحی دورے پر 500 سے 1000 درہم تک خرچ آ جاتا ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ گرمیوں کی تعطیلات کے دوران بہت سے خاندان مہنگے سمر کیمپوں کے بجائے کم خرچ اور مقامی سرگرمیوں کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ مفت پروگراموں کی محدود گنجائش بھی والدین کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔







