متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں آئی بی نتائج کا اعلان، طلبہ نے غیر معمولی حالات کے باوجود شاندار کامیابیاں حاصل کر لیں

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں انٹرنیشنل بیکالوریٹ (IB) پروگرام کے نتائج جاری کر دیے گئے ہیں، جہاں متعدد طلبہ نے عالمی اوسط سے کہیں بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے مکمل 45 اور 40 سے زائد پوائنٹس حاصل کیے۔

رواں سال خطے کی صورتحال کے باعث آئی بی ڈپلومہ اور کیریئر سے متعلق پروگراموں کے حتمی امتحانات منسوخ کر دیے گئے تھے، جس کے بعد طلبہ کو نان ایگزام کنٹنجنسی میجر (NECM) کے تحت گریڈز دیے گئے۔

دبئی انٹرنیشنل اکیڈمی البرشاء کی طالبہ نور بلال الحسینی نے اپنی کامیابی کا سہرا مسلسل محنت، اساتذہ کی رہنمائی اور والدین کی بھرپور حمایت کو دیا۔

انہوں نے کہا، "امتحانات کی منسوخی میرے لیے خوشی اور مایوسی دونوں کا باعث تھی۔ دو سال کی سخت محنت کے بعد امتحان نہ دینا افسوسناک تھا، لیکن آخرکار میری محنت رنگ لے آئی۔”

نور بلال الحسینی گزشتہ دس برس سے مینڈرن زبان بھی سیکھ رہی ہیں اور انہوں نے اماراتی اور چینی ثقافت سے متاثر ہو کر "فرام ڈریگنز ٹو ڈیونز” کے نام سے ایک رنگ بھرنے کی کتاب بھی شائع کی ہے۔ اب وہ امریکن یونیورسٹی آف بیروت میں مکینیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کریں گی۔

دبئی انٹرنیشنل اکیڈمی ایمریٹس ہلز کے آسٹریلوی طالب علم کین سمپسن نے مکمل 45 پوائنٹس حاصل کیے۔

انہوں نے کہا، "مجھے چالیس سے زائد پوائنٹس کی توقع تھی، لیکن مکمل پینتالیس پوائنٹس دیکھ کر یقین نہیں آیا۔ میں نے فوراً اپنے اساتذہ کا شکریہ ادا کیا کیونکہ ان کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہیں تھی۔”

کین سمپسن نے بتایا کہ دورانِ تعلیم انہیں ذہنی دباؤ اور تھکن کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم انہوں نے اپنی پڑھائی کا طریقہ تبدیل کر کے دوبارہ بہترین کارکردگی حاصل کی۔ وہ اب برطانیہ کی یونیورسٹی کالج لندن میں فلسفہ، سیاست اور معاشیات کی تعلیم حاصل کریں گے۔

ایمبیسیڈر انٹرنیشنل اکیڈمی کی طالبہ انوشا تلوالکر نے 42 پوائنٹس حاصل کیے۔ انہوں نے سی بی ایس ای نظام سے آئی بی پروگرام میں منتقلی کو اپنے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا۔

انوشا نے کہا، "امتحانات کی منسوخی پر مجھے شدید مایوسی ہوئی کیونکہ میں نے مسلسل دو برس محنت کی تھی، لیکن مجھے یقین ہے کہ میرا نتیجہ اسی محنت کا ثمر ہے۔”

انہوں نے دو بین الاقوامی کتابوں کے سرورق بھی ڈیزائن کیے ہیں اور اب برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز میں پروجیکٹ ڈیزائن کی تعلیم حاصل کریں گی۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ غیر یقینی حالات، مسلسل اسائنمنٹس اور امتحانات کی منسوخی کے باوجود ان کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقل مزاجی، محنت اور اساتذہ و والدین کی معاونت ہر مشکل کو کامیابی میں بدل سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button