متحدہ عرب امارات

شارجہ: یتیم بچوں کی مدد کے لیے غزہ میں جاری انسانی ہمدردی کی مہم

خلیج اردو
شارجہ: غزہ میں اکتوبر 2023 میں ایک نومولود بچی ملک کو درخت سے لٹکا ہوا پایا گیا تھا، جس کے والدین یا خاندان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ آج وہ ایک نرس کی سرپرستی میں صحت مند زندگی گزار رہی ہے۔ ملک سمیت ہزاروں بچے شارجہ کے دی بگ ہارٹ فاؤنڈیشن کے تحت مدد حاصل کر رہے ہیں۔

دی بگ ہارٹ فاؤنڈیشن نے فلسطین میں قائم تنظیم تعاون کے ساتھ شراکت میں "فار غزہ” کے نام سے ایک مہم شروع کی ہے، جس کا مقصد غزہ میں 20,000 سے زائد یتیم بچوں کو طویل مدتی دیکھ بھال اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

پیر کے روز فاؤنڈیشن نے ایک تقریب منعقد کی جس میں مخیر حضرات اور کمیونٹی ممبران کو مہم کے بارے میں آگاہی دی گئی اور عطیات دینے کی دعوت دی گئی۔

تقریب کے دوران تعاون کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر طارق امطیرہ نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ عطیہ دہندگان سے طویل مدتی وابستگی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا: "ہم چاہتے ہیں کہ جو بھی پارٹنر ہمارے ساتھ شامل ہو، وہ ایک بچے کو پانچ یا دس سال کے لیے سپانسر کرے تاکہ ہم ان بچوں کے لیے پائیدار سہارا فراہم کر سکیں۔ اگر آپ کچھ سال تک کسی بچے کا خیال رکھیں اور پھر چھوڑ دیں تو یہ بہت خطرناک ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ بچوں کی دیکھ بھال 18 سال کی عمر تک جاری رہے۔”

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب اسرائیلی حملوں میں منگل کے روز غزہ میں کم از کم 300 افراد جاں بحق ہوئے، جس نے جنوری میں جنگ بندی کے بعد ایک طویل تعطل کو ختم کر دیا۔

دی بگ ہارٹ فاؤنڈیشن 2013 سے تعاون کے ساتھ شراکت میں فلسطین میں ضرورت مندوں کی مدد کر رہی ہے اور اب تک 11 منصوبے مکمل کر چکی ہے، جن سے دس لاکھ سے زائد افراد کو فائدہ پہنچا ہے۔

ڈاکٹر طارق کے مطابق، تعاون نے 35,000 یتیم بچوں میں سے 20,000 سے زائد بچوں کی تفصیلات جمع کر کے ان کی تصدیق اور رجسٹریشن مکمل کر لی ہے۔ ان میں سے نصف سے زائد بچے دو سال سے کم عمر کے ہیں، جنہیں سب سے زیادہ خطرے کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا: "ہماری ترجیح یہ ہے کہ ان بچوں کو ان کے قریبی رشتہ داروں کے حوالے کیا جائے۔ ہم مقامی سطح پر گود لینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ غزہ کے بچے یہیں رہ کر شہر کی تعمیر نو میں حصہ لیں۔”

یہ مہم شیخہ جواہر بنت محمد القاسمی کی سرپرستی میں شروع کی گئی ہے، جس کا مقصد 2,000 سے زائد بچوں کو تعلیم، صحت، نفسیاتی مدد، خوراک اور پناہ جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

ڈاکٹر طارق نے بتایا کہ غزہ میں ایک بچے کی ماہانہ کفالت پر 170 ڈالر (تقریباً 625 درہم) لاگت آتی ہے۔ ان کے مطابق، "پیشہ ورانہ تربیت اور تعلیم پر تقریباً 69 ڈالر، خوراک اور لباس پر 50 ڈالر، جبکہ صحت کی دیکھ بھال پر 30 ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اور بقیہ رقم بچوں کی ذہنی اور سماجی فلاح و بہبود پر خرچ کی جاتی ہے۔”

تقریب کے دوران ایک آرٹ نمائش بھی منعقد کی گئی، جس میں غزہ کے مختلف پہلوؤں کو پیش کیا گیا۔ ان فن پاروں میں کچھ امید کی کرنیں دکھا رہے تھے جبکہ کچھ نے جنگ کی ہولناکیوں کو اجاگر کیا۔ پینٹنگز کی قیمت 2,500 درہم سے 35,000 درہم کے درمیان رکھی گئی تھی، جنہیں مہم کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے فروخت کیا گیا۔

فلسطینی فنکار ریحاب سیدم کی پینٹنگ "شہید کی ماں” میں ایک ماں کو اپنے شہید بچے کو کفایہ میں لپیٹے دکھایا گیا۔ ایک اور پینٹنگ میں ایک بہن کو اپنے جاں بحق بھائی کے ہاتھ چومتے ہوئے دکھایا گیا، جس میں جنگ کے درد کو اجاگر کیا گیا۔

ریحاب نے کہا: "میں گزشتہ 45 سال سے یو اے ای میں رہ رہی ہوں۔ میں نے کبھی اپنا وطن نہیں دیکھا اور نہیں جانتی کہ کبھی دیکھ سکوں گی یا نہیں۔ میرا خاندان غزہ میں ہے۔ میں صرف یہ کر سکتی ہوں کہ بات کرتی رہوں، آگاہی پیدا کروں، اور امید رکھوں کہ میری پینٹنگز فروخت ہوں تاکہ بچوں کی مدد کے لیے عطیہ کر سکوں۔”

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button