
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں طویل عرصے سے سونے میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد نے پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایک وقت تھا جب سونا عام لوگوں کے لیے باآسانی قابلِ خرید تھا۔ 1997 میں دبئی آنے والے آسیِم ڈی نے اپنی پہلی تنخواہ سے 5 گرام کا سونے کا سکہ خریدا تھا، جس پر اس وقت تقریباً 170 درہم لاگت آئی — یعنی فی گرام 35 درہم۔ آج یہی سکہ 496 درہم فی گرام کے حساب سے 14 گنا سے زیادہ مالیت رکھتا ہے۔
آسیم ڈی، جو ڈیرا میں مقیم اور جیول اسٹون ٹریڈر ہیں، نے بتایا کہ سونے کی خرید و فروخت ان کے معمول کا حصہ بن گئی تھی۔ ’’میں زیورات کے کاروبار میں تھا، روزانہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھتا تھا۔ جب بھی قیمت کچھ کم ہوتی، خرید لیتا، اور دو ماہ بعد نفع پر بیچ دیتا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میرے پاس آج بھی وہ پہلا سکہ موجود ہے، جو 1997 میں خریدا تھا۔ وہ مجھے یاد دلاتا ہے کہ سونا کبھی کتنا سستا ہوا کرتا تھا۔‘‘
کاروباری شخصیت سومیِش وینکی ریڈی نے بتایا کہ سونے میں سرمایہ کاری ان کے والد کے مشورے پر شروع کی۔ ’’والد ہمیشہ کہتے تھے کہ اضافی رقم کبھی ضائع نہ کرو، سونا خریدو۔‘‘ ریڈی نے 2000 میں دبئی آ کر اپنی آمدنی کا ایک حصہ سونا خریدنے کے لیے مختص کیا۔ اس وقت فی گرام قیمت 40 سے 45 درہم تھی۔ 2009 میں وہ اپنے آبائی شہر کاروبار کے لیے گئے اور 2013 میں جب واپس آئے تو سونا 161 درہم فی گرام ہو چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے دبئی سے باہر رہتے ہوئے بھی سونا خریدنا بند نہیں کیا، کیونکہ دیکھتا رہا کہ قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔‘‘
گجرات سے تعلق رکھنے والے راجیش پٹیل 2011 میں دبئی آئے اور ایک گولڈ ریٹیل اسٹور میں کام شروع کیا۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ پہلا 10 گرام 22 قیراط کا سکہ انہوں نے 1800 درہم سے کم میں خریدا تھا۔ ’’میں ہر ماہ تھوڑی بچت کر کے 5 یا 10 گرام خریدتا۔ جب قیمت بڑھتی تو بیچ دیتا اور کم ہونے پر دوبارہ خرید لیتا۔‘‘ آج وہ ڈیرا گولڈ سوک میں اپنی جیولری شاپ چلا رہے ہیں۔
راجیش پٹیل کے مطابق ’’سونا صرف قیمتی دھات نہیں بلکہ طویل المدتی بچت کا بہترین ذریعہ ہے۔ میں نے جب 180 درہم فی گرام خریدا تھا، آج وہ 490 درہم سے زیادہ ہے۔ یہ سب سے بڑا ثبوت ہے کہ سونے میں سرمایہ کاری ہمیشہ درست فیصلہ ہے۔‘‘
تاریخی اعداد و شمار کے مطابق 1990 کی دہائی کے آخر میں سونا 30 سے 40 درہم فی گرام تھا۔ 2010 میں قیمت 160 سے 170 درہم تک پہنچ گئی، اور آج دبئی میں سونا 490 درہم فی گرام سے تجاوز کر چکا ہے۔
آسیم نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’تب سونا ہماری پہنچ میں تھا، آج قیمت دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ میں نے وقت پر آغاز کیا۔‘







