
خلیج اردو
گواتی کے نواحی گاؤں کمارکوچی میں، جہاں آسام کے معروف گلوکار زوبین گرگ کی 23 ستمبر کو سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کی گئیں، ایک نوجوان رضا کار کی آنکھوں میں عقیدت اور تھکن کے ملے جلے آثار نمایاں تھے۔ پس منظر میں دعا خوانی جاری تھی اور چاروں طرف زوبین کی تصویروں، پھولوں اور روایتی آسام کے سفید و سرخ گاموسا سے سجا مقام عقیدت و محبت کا مرکز بن چکا تھا۔
زوبین گرگ، جن کی 19 ستمبر کو سنگاپور میں ایک حادثے میں موت ہوئی، آسام کے عوام کے لیے صرف ایک گلوکار نہیں بلکہ ایک جذبہ، ایک امید اور ایک علامت تھے۔ ان کی موت کے ایک ماہ بعد بھی ہزاروں افراد روزانہ ان کے کریمیشن سائٹ پر حاضری دیتے ہیں، گویا وہ ایک زیارت گاہ بن چکی ہو۔
زوبین کی موت نے عالمی میڈیا کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرائی، کیونکہ ان کے جنازے میں پندرہ لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے۔ ان مناظر کو دیکھ کر ماہرین نے کہا کہ شاید صرف مائیکل جیکسن کا الوداعی سفر ہی اس سے بڑا اجتماع تھا۔
زوبین گرگ کی شخصیت صرف موسیقی تک محدود نہیں تھی۔ وہ سماجی و سیاسی معاملات میں کھل کر بولتے، غریبوں کی مدد کرتے، سیلاب متاثرین کے لیے فنڈ جمع کرتے اور کووڈ کے دوران اپنا گھر فلاحی مرکز میں بدل دیتے۔ ایک موقع پر انہوں نے اپنی کمائی کا سات لاکھ روپیہ ایک مدرسے کے یتیم بچوں کو عطیہ کیا۔
ان کی موت کے بعد ریاستی حکومت اور اپوزیشن میں سنگاپور میں ہونے والے واقعے کی تحقیقات پر شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ عوام کا ماننا ہے کہ ان کی موت میں غفلت برتی گئی، جبکہ سنگاپور پولیس نے کسی مجرمانہ فعل کی تردید کی ہے۔
زوبین گرگ 1990 کی دہائی میں ایسے وقت میں ابھرے جب آسام علیحدگی پسندی، تشدد اور خوف کے سائے میں ڈوبا ہوا تھا۔ ان کے نغموں نے لوگوں کو امید دی، اور وہ اپنی انوکھی طرز موسیقی سے ایک نسل کی آواز بن گئے۔ ان کے گانے "مایابینی راتیر بوکوت” سے لے کر "یا علی” تک، ہر دھن نے لوگوں کے دلوں پر اثر چھوڑا۔
ان کی رحلت کے بعد نہ صرف آسام بلکہ بھارت اور بیرون ملک بھی اہلِ موسیقی نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ پاکستانی بینڈ "خودگرز” نے کراچی میں "یا علی” گا کر ان کی یاد تازہ کی۔
مشہور وائلنسٹ سُنیِتا بھویاں نے کہا، "زوبین صرف ایک گلوکار نہیں بلکہ ایک نابغہ روزگار فنکار تھے، جنہوں نے آسام کی ثقافت کو نئی روح بخشی۔”
زوبین گرگ آج آسام کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں — ایک ایسے فنکار کے طور پر جس کی آواز نے دکھ، مزاحمت اور محبت کو ایک ساتھ جوڑ دیا۔







