
خلیج اردو
02 اپریل 2021
دبئی : متحدہ عرب امارات میں ملازمت کی تلاش میں موجود کمپنیاں ایک مرتبہ پھر سے بھرتیوں کا آغاز کرے گی۔ اب متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں کیلئے ایک آسان وقت آنے والا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ملازمت کے متلاشیوں کے لئے بہت آسان وقت آجائے گا کیونکہ ملک بھر کی کی مختلف کمپنیاں ایک بار پھر مختلف خالی پوزیشنوں کو پُر کرنے کی کوشش میں ہیں ۔ کرونا وائترس کی وجہ سے جو اثر پڑ گیا تھا اسے دوبارہ سے کرونا سے پہلے کی صورت حال پر لایا جائے گا۔
ملازمت اور بھرتیوں کے تازہ ترین اندازرے کے مطابق کمپنیاں مستقبل کیلئے تیاریان کررہی ہیں اور اس کیلئے وہ ڈیجیٹلائزیشن ، رسک مینجمنٹ اور فنانس مشاورت میں مہارت حاصل کررہی ہے۔ صحت کی دیکھ بھال کا شعبہ اب بھی نئی صلاحیتوں کی مانگ میں مصروف ہے جبکہ مہمان نوازی ، ہوا بازی اور تفریح جیسے عالمی وبائی امراض سے متاثر ہونے والے شعبے آہستہ آہستہ بہتر ہو رہے ہیں۔
بیلیٹ ڈاٹ کام کے ایچ آر ڈائریکٹر اولا حداد نے خلج ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائرس نے بلا شبہ گذشتہ سال کئی صنعتوں کو سخت نقصان پہنچایا تھا لیکن ملازمت کا شعبہ حالیہ طبی پیشرفت اور مستقل حفاظت کی مدد سے آہستہ آہستہ بحال ہو رہا ہے۔ 2020 کا سال جہاں دنیا بھر کے پیشہ ور افراد کیلئے ایک چیلنجنگ سال تھا وہاں 2021 اب روشن نظر آرہا ہے۔ خاص طور پر متحدہ عرب امارات میں ملازمت کے متلاشیوں کیلئے صورت حال میں بہتری آرہی ہے۔ بیت ڈاٹ کام کے ذریعہ حال ہی میں کیے گئے جاب انڈیکس سروے کے مطابق متحدہ عرب امارات کے 74 فیصد آجر اگلے سال میں نئے افراد کی سروسز حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اس سروے کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں تو جونیئر ایگزیکٹیو کی پوزیشنز کیلئے لوگ بھرتیاں کررہے ہیں لیکن متحدہ عرب امارات میں سرفہرست آجروں کیلئے سیلز ایگزیکٹوز ، ریسپشنسٹ اور سیلز مینیجر سب سے اہم پوزیشنز ہیں۔ دوسری طرف ، آئل / گیس / پیٹرو کیمیکلز ، اشتہاری / مارکیٹنگ / تعلقات عامہ ، اور انجینئرنگ / ڈیزائن شعبوں نے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے پورے خطے میں اگلے ایک سال میں ملازمت حاصل کرنے کے حوالے سے مثبت اعشاریے ملے ہیں۔
مائیکل پیج میں مشرق وسطی کے ریجنل ڈائریکٹر جون ایڈ نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی ملازمت کی مارکیٹ کیلئے 2021 میں کیا حال ہوگا ، اس کے بارے میں حتمی طور پر تو نہیں کہا جا سکتا کچھ لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ پچھلے سال کے مقابلے میں کافی زیادہ بہتر ہوگا۔
متحدہ عرب امارات میں روایتی شعبوں جیسے ریٹیلز ، ہوا بازی اور سیاحت کو 2020 میں سب سے بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا اور وہ بحران سے نکلنے کیلئے اپنا راستہ تلاش کرنے کیلئے جدت طرازی کرتے رہتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی بہترین حکمت عملی اور خاص کر ویکسینشن کے عمل نے شہریوں ، کاروباریوں اور عالمی سیاحوں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا ہے اور اس سلسلے میں توقع کی جارہی ہے کہ کرونا وائرس کے بعد کی یہاں زندگی شیاد کرونا کے پہلے کی زندگی کے مقابلے میں زیادہ پررونق ہوگی۔
Source : Khaleej Times







