
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں متعدد ادارے اسقاط حمل کے بعد والدین کے لیے سوگ کی رخصت متعارف کروا رہے ہیں، جس سے خطے میں ادارہ جاتی ہمدردی اور فلاح و بہبود کی پالیسیوں میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے۔
عالمی اور مقامی اعداد و شمار کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک حمل اسقاط پر منتج ہوتا ہے، اور یو اے ای میں بھی یہی تناسب پایا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود 95 فیصد متاثرہ مرد و خواتین بغیر کسی رخصت کے کام پر واپس آ جاتے ہیں، جو اس صدمے سے گزرنے والے والدین کے لیے کارپوریٹ بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔
کارپوریٹ ہمدردی کا اندھا گوشہ
‘اِٹس ہر وے’ کی شریک بانی آرمِن جَمولہ کا کہنا تھا، "اسقاط حمل کے بعد رخصت لینا ایک ایسے موضوع کو اجاگر کرتا ہے جس پر ہمارے خطے میں شاذ و نادر ہی بات کی جاتی ہے۔ جب والدین سے اگلے دن ہی کام پر واپسی کی توقع کی جاتی ہے، تو یہ کارپوریٹ ہمدردی کے ایک اندھے گوشے کو بے نقاب کرتا ہے۔”
کارپوریٹ دلچسپی اور مثبت رجحان
جینی ریکروٹمنٹ کی پرنسپل کنسلٹنٹ مائرا بینیٹ کے مطابق، "کئی کاروبار اسقاط حمل پر ہمدردی کی بنیاد پر مختصر رخصت دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ مَیٹرنٹی لیو جتنی طویل نہیں، لیکن یہ اقدام والدین کی ذہنی صحت اور فلاح کے لیے اہم ہے۔”
انسانی ہمدردی کو ترجیح دینے کی ضرورت
ایچ آر ماہرین کے مطابق، ایسے حالات میں اداروں کی طرف سے سادہ سا پیغام – “آپ اکیلے نہیں ہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں” – بھی بہت معنی رکھتا ہے۔ پاتھ فائنڈر گلوبل ایف زیڈ سی او کی ایسوسی ایٹ نائب صدر فاطمہ احمد نے کہا کہ "مینجرز کو اس بات کی تربیت دی جانی چاہیے کہ وہ ہمدردی، رازداری اور ثقافتی حساسیت کے ساتھ ردعمل دیں۔”
ذہنی صحت کی سہولیات اور لچکدار واپسی کی تجاویز
مارک ایلس کے شریک بانی زید الحیالی نے کہا کہ "ہم معتبر ذہنی صحت اداروں سے اشتراک کر کے متاثرہ ملازمین کی مدد کر سکتے ہیں، اور کچھ صورتوں میں لچکدار واپسی یا ریموٹ ورک کی سہولت بھی فراہم کی جا سکتی ہے۔”
قانونی رُخ: اسقاط حمل اور رخصت کی وضاحت
قانونی ماہر اشیش مہتا کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے لیبر قانون کے آرٹیکل 30 کی شق 3 کے تحت اگر حمل چھ ماہ یا اس سے زائد جاری رہا ہو، تو چاہے بچہ مردہ پیدا ہو یا بعد میں وفات پا جائے، مَیٹرنٹی لیو کا مکمل حق حاصل ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں، آرٹیکل 32 کے مطابق بچے کی موت کی صورت میں تین دن کی رخصت دونوں والدین کے لیے دستیاب ہے۔
مہتا نے مزید واضح کیا کہ قانون میں فوت ہونے والے بچے کی عمر کا تعین نہیں کیا گیا، مگر چھ ماہ یا زائد حمل کی صورت میں اسقاط کو بھی اسی زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔







