خلیج اردو
11 نومبر 2020
دبئی: شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر مختلف ممالک کے سربراہان سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کرونا وبا سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے لیے 6نکاتی حکمت عملی تجویز دی جس میں کوویڈ 19 کی دوسری لہر کا مقابلہ کرنے کے لئے نالج بینک کا قیام ، وبائی امراض کے معاشی اثرات کو کم کرنے کی پالیسیاں اپنانے اور کرونا ویکسین کو عالمی سطح پر بھلائی کا ذریعہ قرار دینے سمیت دیگر نکات شامل تھے۔۔
اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک کے مابین کرونا وباا سے متعلق معلومات کے تبادلے سے اس کے خطرات سے بمٹنے میں کافی مدد ملی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے تجویز پیش کی کہ تنظیم کو وبائی امراض کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لئے عالمی ادارہ صحت کی مشاورت سے فریم ورک تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ مختصر ، درمیانے اور طویل مدتی پالیسیاں بھی مرتب کرنا چاہیے۔۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ کوویڈ 19 کی ویکسین کو بعض اقوام تک محدود رکھنے کے بجائے تمام انسانوں کی بہتری کے لئے "عالمی اچھائی” کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔
عمران خان نے کرونا وبا سے بہترین انداز نیں نمٹنے اور اس پر قابو پانے پر چین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین ملکر کرونا کی ویکسین ہر کام کر ہے ہیں جو انسانوں پر آزمائش کے مرحلے میں ہے۔
عمران خان نے کرونا کیخلاف پاکستان کی پالیسیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اسمارٹ لاک ڈاون سے نہ صرف وبا کو پھیلاو کو روکا بلکہ غریب عوام کو فاقہ کشی سے بھی بچایا۔ اجلاس سے چین،روس،بھارت،ازباکستان اور تاجکستان کے سربراہان نے بھی خطاب کیا۔







