متحدہ عرب امارات

سعودی عرب نے عرعر بارڈر بند کر دیا، زائرین کی بسوں سے منشیات اور شراب برآمد

خلیج اردو
دبئی: سعودی عرب نے عراق سے متصل عرعر بارڈر کراسنگ کو 24 گھنٹے سے زائد عرصے کے لیے بند کر دیا ہے، جس کے باعث ہزاروں عراقی زائرین سرحد پر پھنس گئے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب سعودی حکام نے زائرین کو لانے والی بسوں سے منشیات اور شراب کی بڑی مقدار برآمد کی۔

کسٹمز اہلکاروں نے نو بسوں کی تلاشی کے دوران مختلف اشیاء میں چھپائی گئی ممنوعہ چیزیں پکڑیں۔ ان میں روٹی کے اندر چھپائی گئی کیپٹاگون گولیاں، پانی کی بوتلوں کے روپ میں ووڈکا، اور بس کے ونڈ اسکرین واشر ٹینک میں چھپائی گئی عرق کی بوتلیں شامل تھیں۔ انکشاف کے بعد سعودی سیکیورٹی فورسز نے چیکنگ سخت کر دی اور بارڈر کو مکمل طور پر بند کر دیا۔

عینی شاہدین کے مطابق سعودی اہلکاروں نے عراقی زائرین کے ساتھ احترام کا رویہ اپنایا، تاہم اسمگلنگ کے واقعات کے باعث سخت کنٹرول ناگزیر ہو گیا۔ ہزاروں مسافر، جن میں بڑی تعداد زائرین کی ہے، سرحد کے باہر کھلے آسمان تلے انتظار پر مجبور ہیں۔

عرعر کراسنگ عراق کے صوبہ انبار کو شمالی سعودی عرب سے ملاتی ہے اور تجارتی و سفری لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ 1990 کی خلیجی جنگ کے بعد بند ہو گیا تھا، 2013 میں عارضی طور پر کھلا، اور 2020 میں باضابطہ طور پر دوبارہ بحال کیا گیا تھا۔ سعودی عرب نے اس میں بھاری سرمایہ کاری کر کے جدید کسٹمز اور لاجسٹک سہولیات فراہم کی تھیں۔

تازہ ترین صورتحال کے مطابق سعودی حکام نے بارڈر کھولنے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی جبکہ عراقی حکام نے زائرین کی مشکلات کم کرنے کے لیے فوری رابطے کی اپیل کی ہے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خدشات سب سے بڑی ترجیح ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button