متحدہ عرب امارات

امریکہ ایران کے ساتھ منصفانہ معاہدے کا خواہاں، خلیج میں سفارتی سرگرمیاں تیز

خلیج اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک "منصفانہ معاہدے” تک پہنچنے کے لیے کام کر رہا ہے، جبکہ خطے میں جنگ بندی کے بعد سفارتی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے۔

اسی سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو خلیجی ممالک کے دورے کے دوران ابوظہبی پہنچ گئے ہیں۔ ان کے دورے کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے متاثرہ اہم اتحادی ممالک کے لیے واشنگٹن کی حمایت کا اعادہ کرنا ہے۔

مارکو روبیو نے اس امکان کو بھی مسترد کر دیا کہ مستقبل میں ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی محصول یا ٹول ٹیکس عائد کر سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی اقدام بین الاقوامی قانون اور سمندری آزادی کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔

دوسری جانب ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات بھی بدستور توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ماہرین کو مناسب وقت پر متاثرہ جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

لبنان میں حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے بعد اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج ایک واضح ٹائم فریم کے تحت لبنانی سرزمین چھوڑے اور دریائے لیتانی کے جنوب میں سکیورٹی کی ذمہ داری لبنانی فوج کے سپرد کی جائے۔

ادھر خلیج میں بحری سرگرمیوں کی بحالی کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے بین الاقوامی میری ٹائم ادارے نے اعلان کیا ہے کہ جنگ کے دوران پھنس جانے والے 11 ہزار سے زائد ملاحوں کو محفوظ طریقے سے نکالنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے علاقائی ممالک، امریکہ، ایران، عمان اور بحری صنعت کے ساتھ ضروری حفاظتی ضمانتوں پر اتفاق کیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button