متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کی وزارت خزانہ نے الیکٹرانک انوائسنگ نظام کے ضوابط میں ترامیم کردی ہیں

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی وزارت خزانہ نے الیکٹرانک انوائسنگ نظام کے ضوابط میں ترامیم کردی ہیں، جن کا مقصد کاروباری اداروں کے لیے نظام پر عمل درآمد آسان بنانا، قواعد میں وضاحت پیدا کرنا اور انتظامی و آپریشنل اخراجات کا بوجھ کم کرنا ہے۔ نئی ترامیم کے تحت ایک ہی ٹیکس گروپ میں شامل کاروباری اداروں کے درمیان بعض لین دین کو یکم جنوری 2027 سے 24 ماہ کے لیے عارضی طور پر نظام سے مستثنیٰ قرار دیا جاسکے گا۔

وزارت خزانہ کے مطابق وزارتی فیصلہ نمبر 197 مجریہ 2026 کے ذریعے الیکٹرانک انوائسنگ سے متعلق وزارتی فیصلہ نمبر 243 مجریہ 2025 کی بعض شقوں میں تبدیلی کی گئی ہے۔ نیا فیصلہ یکم اکتوبر 2026 سے نافذ العمل ہوگیا ہے۔ اس کے تحت مستثنیٰ قرار دیے گئے لین دین کو مقررہ 24 ماہ کی مدت کے دوران خارج شدہ لین دین تصور کیا جائے گا، جس سے کاروباری اداروں کو نئے نظام کے مطابق تیاری اور ضروری تبدیلیوں کے لیے مزید وقت مل سکے گا۔

متحدہ عرب امارات میں الیکٹرانک انوائسنگ نظام کا نفاذ مرحلہ وار کیا جارہا ہے۔ جولائی 2026 سے سالانہ پانچ کروڑ درہم سے زیادہ آمدنی رکھنے والے بڑے کاروباری اداروں کے لیے اس نظام کا آغاز کیا گیا، جبکہ چھوٹے کاروباری اداروں کو جنوری 2027 سے اس میں شامل کیے جانے کی توقع ہے۔ حکومتی منصوبے کے مطابق 2028 تک تمام متعلقہ کاروباری شعبوں میں نظام کا مکمل نفاذ کیا جائے گا۔

نظام میں ایک اور اہم تبدیلی الیکٹرانک انوائسز، کریڈٹ نوٹس اور متعلقہ ڈیٹا محفوظ رکھنے سے متعلق ہے۔ ترمیم شدہ آرٹیکل 11 کے تحت الیکٹرانک انوائسنگ نظام کے تابع ہر شخص اور کاروباری ادارے کو تمام الیکٹرانک انوائسز، کریڈٹ نوٹس اور دیگر متعلقہ ریکارڈ ٹیکس طریقہ کار کے قانون میں مقررہ مدت تک محفوظ رکھنا ہوگا۔ متعلقہ اداروں کو یہ ریکارڈ وفاقی ٹیکس اتھارٹی کی جانب سے طلب کیے جانے پر فراہم کرنے کے قابل بھی ہونا چاہیے۔

نئی ترامیم کے تحت ان ریکارڈز کو لازمی طور پر متحدہ عرب امارات کے اندر محفوظ رکھنے کی سابقہ شرط بھی ختم کردی گئی ہے۔ اس تبدیلی کے بعد توجہ ریکارڈ محفوظ رکھنے کے مقام کے بجائے اس کی دستیابی، برقرار رکھنے اور ٹیکس قوانین کی تعمیل پر مرکوز ہوگی۔

وزارت خزانہ نے الیکٹرانک انوائسنگ سے متعلق سابقہ فیصلے میں موجود نظام کی خرابی یا بندش سے متعلق دفعات بھی ختم کردی ہیں۔ اس مقصد کے لیے آرٹیکل 12 منسوخ کردیا گیا ہے اور آرٹیکل 1 سے اس سے متعلق تعریف بھی حذف کردی گئی ہے۔ سابقہ ضابطے کے تحت نظام میں خرابی پیش آنے کے دو کاروباری دنوں کے اندر وفاقی ٹیکس اتھارٹی کو مطلع کرنا ضروری تھا۔

وزارت خزانہ کے مطابق یہ ترامیم کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے، الیکٹرانک انوائسنگ نظام کے نفاذ کے دوران کاروباری اداروں کو زیادہ لچک فراہم کرنے اور انتظامی بوجھ کم کرنے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ضابطہ جاتی تقاضوں کو مؤثر اور کاروبار دوست ماحول کے مطابق بنانا اس اقدام کا بنیادی مقصد ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button