
خلیج اردو
دبئی: ملازمت کے دوران مسلسل دباؤ اور بے بسی کی کیفیت میں مبتلا رہنے والے ملازمین کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت ’کوائٹ کریکنگ‘ کہلاتی ہے، جو ایک نئی عالمی رجحان کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ اس کیفیت میں ملازم بظاہر اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے مگر اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ حوصلہ کھو دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کوائٹ کریکنگ اس وقت جنم لیتی ہے جب ملازم مسلسل ضرورت سے زیادہ کام، غیر حقیقی ڈیڈ لائنز، ترقی اور تعریف کے فقدان، دفتر کی سیاست اور غیر یقینی مستقبل کا سامنا کرتا ہے۔ اس کیفیت میں شخص اپنی کارکردگی تو دکھاتا ہے لیکن اندرونی طور پر اطمینان اور مقصدیت سے محروم ہو جاتا ہے۔
سی ڈی اے سے لائسنس یافتہ ماہر نفسیات حبہ علی کے مطابق کوائٹ کریکنگ، برن آؤٹ اور ڈپریشن سے ملتی جلتی ہے مگر فرق یہ ہے کہ یہ کیفیت زیادہ تر دفتر تک محدود رہتی ہے اور فیملی لائف کو متاثر نہیں کرتی۔ تاہم اگر توجہ نہ دی جائے تو یہ برن آؤٹ اور پھر ڈپریشن تک جا سکتی ہے۔
ٹی اے ایس سی گروپ کے یو اے ای کنٹری ہیڈ پیڈرو لاسیرڈا نے کہا کہ یہ ایک خاموش تھکن ہے جو ابتدا میں نظر نہیں آتی، مگر وقت کے ساتھ مجموعی انگیجمنٹ اور پیداواریت کو متاثر کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق کام کا بوجھ، سخت ڈیڈ لائنز اور سپورٹ کی کمی اس کیفیت کے بڑے اسباب ہیں۔
ماہرین نے وضاحت کی کہ ’کوائٹ کریکنگ‘ کو ’کوائٹ کوئٹنگ‘ سے الجھایا نہیں جانا چاہیے۔ کوائٹ کریکنگ میں ملازم بظاہر متوقع کارکردگی دکھاتا ہے مگر اندر سے ٹوٹ رہا ہوتا ہے، جبکہ کوائٹ کوئٹنگ میں ملازم شعوری طور پر صرف بنیادی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے اور اضافی کام یا جوش و خروش سے اجتناب کرتا ہے۔
ماہرین نے اداروں کو تجویز دی ہے کہ وہ ملازمین کی فلاح و بہبود کو ترجیح دیں، لچکدار اوقات کار فراہم کریں، ویلنس ڈیز دیں، کھلے مکالمے کے مواقع پیدا کریں اور عملی سپورٹ فراہم کریں تاکہ ملازمین حوصلہ نہ ہاریں۔
حبہ علی کا کہنا ہے کہ ملازمین اپنی دیکھ بھال کے لیے بھی اقدامات کر سکتے ہیں جیسے کہ کام اور ذاتی زندگی میں حدود طے کرنا، وقت کے بہتر استعمال کی عادت اپنانا، مائنڈفلنیس، آرام اور نیند کو ترجیح دینا، اسکرین ٹائم کم کرنا، کھلے دل سے بات چیت کرنا اور ویلنس جرنل لکھنا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کیفیت شدت اختیار کر لے اور زندگی کے ہر پہلو پر اثر انداز ہو تو فوری طور پر ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا ضروری ہے۔






