متحدہ عرب امارات

باپ کا بیٹے پر تشدد ، ماں کی شکایت پر عدالت نے جرمانہ کر دیا

خلیج اردو
21 مارچ 2021
فوجیرہ : فوجیرہ کی اپلنٹ کورٹ نے ابتدائی عدالتکا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے باپ کو اپنے بیٹے پر تشدد کے جرم میں 1100 درہم کا جرمانہ کر دیا۔

تاہم عدالت نے ان کے ایک مہینے کے جیل کی سزا معطل کی جو ابتدائی عدالت نے سنائی تھی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق بیٹے کی والدہ نے فوجیرہ پولیس کے پاس شکایت درج کی کہ ان کے سابقہ شوہر نے ان کے بیٹے کو بری طرح سے مارا پیٹا ہے۔ ماں کا کہنا ہے کہ شوہر نے اسے ازیت پہنچانے کیلئے بیٹے کو مارا۔

ماں اور باپ میں علیحدگی ہوئی تھی اور بیٹے ماں کے ساتھ رہتا تھا اور شوہر ان دونوں سے ملنے جاتا تھا اور شوہر نے بیٹے کو شرارتوں کی وجہ سے مارا جس سے اسے خروچیں آئیں۔

تاہم حالیہ دنوں میں ظالم باپ نے اسے گردن ، چہرے اور شانوں پر زخمی کیا ۔ والدہ نے میڈیکل رپورٹ بھی پیش کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ باپ کے وحشیانہ حملے کی وجہ سے بچہ 20 دنوں تک زخمی پڑا رہا ۔

بچے نے فوجیرہ کے استعاثہ عامہ کے سامنے گواہی دی کہ اس کی چھوٹی بہن سے معمولی لڑائی ہوئی تھی جس پر باپ نے انتہائی تشدد کا نشانہ بنایا۔ باپ نے کئی بار چہرے اور کندھوں پر تشدد کیا اور چھوٹی بہن کو بھی مارا۔

والد نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سارے معاملہ میں تب فریق بنا جب اس کی بیٹی نے فون کرکے بتایا کہ بھائی نے اسے مارا ہے۔

جب میں گھر گیا تو اپنی بیٹی کو تسلی دی اور اپنے بیٹے کے ساتھ کچھ نہیں کیا ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس کی سابقہ ​​اہلیہ نے اس اس سے بدلہ لینے کیلئے ایک من گھڑت اور جھوٹی کہانی بنائی ہے۔

اس کیس کو فوجیرہ کی ابتدائی عدالت کے پاس بھیجا گیا جہاں شکایت کنندہ نے دو ویڈیو پیش کیں جن میں ان کے الزامات کی تصدیق کی گئی تھی ۔

ابتدائی عدالت نے باپ کو قصوروار ٹہراتے ہوئے 1100 درہم کا جرمانہ کیا اور ایک ماہ جیل میں رہنے کا حکم دیا تاہم متحدہ عرب امارات کے فیڈرل آرٹیکل 83 اور 84 کے مطابق اپلنٹ کورٹ نے جرمانہ برقرار رکھا لیکن قید کی سزا معطل کی ۔

 

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button