
خلیج اردو
دبئی: دبئی پولیس اور عوامی سلامتی کے نائب چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ضاحی خلفان تمیم نے خبردار کیا ہے کہ طویل اسکولی اوقات، معاشی دباؤ اور ڈیجیٹل مصروفیات خاندانی رشتوں کو کمزور کر رہے ہیں اور اماراتی معاشرے کی بنیاد کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
خاندانی استحکام سے متعلق ایک نشست میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بچوں کے اسکول سے واپس آنے تک دن کا بڑا حصہ گزر چکا ہوتا ہے، جس کے بعد خاندان کے ساتھ بامعنی وقت گزارنا ممکن نہیں رہتا۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ بچوں کی تربیت کی مکمل ذمہ داری اسکولوں پر ڈالنا خطرناک رجحان ہے۔ "کردار سازی کی بنیاد گھر سے رکھی جاتی ہے، اسکول صرف تعلیم دے سکتا ہے، والدین کا متبادل نہیں بن سکتا۔”
ان خیالات کی بازگشت 16 مئی کو امارات کے معروف کاروباری شخصیت خلف الحبتور نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کی۔ انہوں نے کہا: "میں روزانہ صبح 6 بجے بچوں کو اسکول بس میں سوار ہوتا دیکھتا ہوں، جو پورا دن اسکول اور گھر کے درمیان سفر میں گزار دیتے ہیں۔ یہ چھوٹے بچوں کے لیے کسی اذیت سے کم نہیں۔”
لیفٹیننٹ جنرل خلفان نے گفتگو کا آغاز ان الفاظ سے کیا: "خاندان کسی بھی تہذیب کی بنیاد ہے، جہاں اقدار پروان چڑھتی ہیں اور شناخت بنتی ہے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے ثقافتی اور ڈیجیٹل رجحانات اس بنیادی ادارے کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ افراد ایک ہی چھت کے نیچے تو رہتے ہیں مگر جذباتی طور پر ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ہیں۔ "پہلے خاندانوں میں مشاورت ہوتی تھی، اب وہ روایات ختم ہو چکی ہیں۔” ان کے مطابق بات چیت کی کمی بچوں میں رویوں کی خرابی اور احساس محرومی کو جنم دے رہی ہے۔
مالی مسائل کو بھی انہوں نے خاندانی نظام پر دباؤ کی بڑی وجہ قرار دیا۔ "مہنگائی، بے روزگاری اور آمدنی کی غیر یقینی صورتحال نہ صرف والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرتی ہے بلکہ گھر میں کشیدگی اور تشدد کو بھی جنم دیتی ہے۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خاندان خود کو بدلتے وقت کے مطابق ڈھالنے میں ناکام رہے، تو وہ آنے والی نسلوں کی تربیت میں اپنا کردار کھو دیں گے۔ "ہمیں بچوں کو ایک ایسے مستقبل کے لیے تیار کرنا ہوگا جہاں تنقیدی سوچ، جذباتی ذہانت اور ڈیجیٹل مہارت لازمی ہوں گی۔”
لیفٹیننٹ جنرل خلفان نے کمیونٹی ڈویلپمنٹ اتھارٹی جیسے اداروں پر زور دیا کہ وہ معاشرتی تحقیق اور مثبت خاندانی نمونوں کو فروغ دینے کے لیے پروگرام ترتیب دیں۔ انہوں نے ذہنی صحت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ بے چینی، ڈپریشن اور بچوں میں رویے کی خرابیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن اکثر خاندان بدنامی کے خوف سے مدد لینے سے گریز کرتے ہیں۔ "ذہنی صحت کو نظرانداز کرنا مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ ہمیں پیشہ ورانہ مدد کو معمول بنانا ہوگا۔







