متحدہ عرب امارات

ابوظبی: سردی، زخموں اور بیماری کا شکار 50 سمندری کچھوے دوبارہ قدرتی ماحول میں چھوڑ دیے گئے

خلیج اردو
ابوظبی: جمیرہ سادیات بیچ بدھ کی صبح ایک خوشگوار منظر کا گواہ بنا، جب 50 زخمی یا بیمار سمندری کچھوے دوبارہ سمندر کی آغوش میں لوٹائے گئے۔ بچوں، ماحولیاتی تحفظ کے کارکنوں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد نے اس منظر کو قریب سے دیکھا، جو ابوظبی انوائرمنٹ ایجنسی (ای اے ڈی) کے زیر اہتمام ایک عوامی تقریب کا حصہ تھا۔

اس اقدام میں یاس سی ورلڈ ریسرچ اینڈ ریسکیو اور دی نیشنل ایکویریم نے تعاون کیا۔ پروگرام کا مقصد ان کچھووں کی بحالی تھا جو متحدہ عرب امارات کے پانیوں میں مختلف خطرات کا شکار ہو کر زخمی یا بیمار ہو چکے تھے۔

سینئر زولوجیکل ڈائریکٹر اسکاٹ میک کائے نے بتایا کہ "اس سیزن میں ہم نے 137 کچھوے ریسکیو کیے، جن میں سے 25 آج واپس جا رہے ہیں، باقی کچھ جلد چھوڑے جائیں گے۔” ان کچھووں نے ہفتوں یا مہینوں تک مختلف بیماریوں اور زخموں سے صحت یاب ہونے کے بعد یہ دن دیکھا، جن میں سے ایک غیر متوقع بیماری ’سردی‘ بھی تھی۔ "جی ہاں، آپ نے درست سنا، یہ کچھوے سردی کا شکار بھی ہوتے ہیں۔”

یہ مظہر، جسے cold-stunning کہا جاتا ہے، اگرچہ عرب خلیج میں حیرت انگیز لگتا ہے، مگر ماہرین کے مطابق موسمِ گرما اور سرما میں پانی کے درجہ حرارت میں غیرمعمولی فرق کچھووں کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ نیشنل ایکویریم کے کیوریٹر لوئس کاکس نے بتایا کہ "گرمیوں میں پانی کا درجہ حرارت 35 ڈگری تک پہنچتا ہے جبکہ سردیوں میں یہ 12 یا 13 ڈگری تک گر جاتا ہے، جو سرد خون والے ان جانوروں کے لیے جان لیوا ہو سکتا ہے۔”

چھوٹے کچھوے، خاص طور پر مقامی پیدا ہونے والے Hawksbill نسل کے کچھوے، اکثر سرد پانی سے بچاؤ کے بارے میں لاعلم ہوتے ہیں اور یوں بیمار یا بے جان حالت میں ساحل پر آ جاتے ہیں۔ ان کی موجودگی اکثر ساحلی مکینوں یا ساحل پر سیر کرنے والوں کی جانب سے رپورٹ کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر ہند العامری، ای اے ڈی کی میرین بایو ڈائیورسٹی سیکشن کی قائم مقام سربراہ نے بتایا کہ "اگر کوئی شخص زمین یا پانی میں کسی پریشان حال کچھوے کو دیکھے تو 800-555 پر اطلاع دے۔ خود سے مدد دینے کی کوشش نہ کریں کیونکہ یہ چوٹ کو مزید بڑھا سکتی ہے۔”

ای اے ڈی کے مطابق 2016 سے اب تک 1500 سے زائد کچھوے ریسکیو کیے جا چکے ہیں۔ رواں سیزن میں ہی 287 کچھوے بچائے گئے جن میں 140 دی نیشنل ایکویریم اور 147 یاس سی ورلڈ نے ریسکیو کیے۔

میک کائے نے ایک خاص کیس کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ "اس سیزن میں ایک کچھوے کا ایک پنکھ کاٹنا پڑا، مگر اب وہ صحت یاب ہے اور اگلے گروپ میں واپس چھوڑا جائے گا۔” حکام کے مطابق اگر کچھوا خود تیراکی، خوراک اور بقا کے قابل ہو تو اسے قدرتی ماحول میں واپس چھوڑا جا سکتا ہے، چاہے اس کا کوئی عضو نہ ہو۔

اس سال تحقیق کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے 15 کچھووں پر سیٹلائٹ جی پی ایس ٹریکر بھی نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ ان کی نقل و حرکت اور غذا کے مقامات پر تحقیق کی جا سکے۔ ان میں سے پانچ کچھوے آج کے ریلیز کا حصہ تھے۔

میک کائے نے تقریب کے اختتام پر کہا: "یہ جانور ایک دوسرا موقع پا رہے ہیں، اور یہ موقع انہیں ان لوگوں کی وجہ سے ملا ہے جو ان کی خبر دیتے ہیں اور وہ ماہرین جو ان کی بحالی کے لیے دن رات کام کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button