متحدہ عرب امارات

اماراتی لہجے کو زندہ رکھنے والی سابق اُستانی لامیہ الشامسی کی کاوشیں

خلیج اردو
شارجہ: اماراتی ثقافت کی نمائندہ اور 54 سالہ سابق اُستانی لامیہ راشد الشامسی نے مقامی لہجے کو محفوظ رکھنے کے لیے سوشل میڈیا کو ایک مؤثر ذریعہ بنا لیا ہے۔ 2014 میں انہوں نے اماراتی الفاظ کو دستاویزی شکل دینا شروع کی، جو اب ایک ایسے آن لائن پلیٹ فارم میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں لوگ اماراتی لہجے کو سیکھ سکتے ہیں۔

سات سال تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہنے کے بعد لامیہ نے اپنی توجہ بچوں کی پرورش پر مرکوز کی۔ جب بچے بڑے ہو گئے تو انہوں نے شوقیہ طور پر اماراتی الفاظ جمع کرنا شروع کیے، جو جلد ہی خاندان اور دوستوں کی حوصلہ افزائی سے ایک بڑے مقصد میں تبدیل ہو گیا۔

ابتدا میں وہ صرف سادہ وضاحتوں اور تصاویر کے ذریعے مقامی الفاظ پیش کرتی تھیں، لیکن جلد ہی لوگوں نے تلفظ اور جملوں میں استعمال سے متعلق سوالات شروع کر دیے۔ اس ردعمل نے لامیہ کو ویڈیوز میں آواز اور متحرک تصاویر شامل کرنے پر مائل کیا تاکہ سیکھنے کا عمل زیادہ دلچسپ اور مؤثر ہو۔

لامیہ نے بتایا کہ ان کا اصل مقصد یہ تھا کہ ان کے بچے گھر میں صرف عربی بولیں، انگریزی صرف اسکول تک محدود رہے۔ اب ان کی خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچے اور والدین اماراتی لہجہ سیکھیں۔

ان کا پلیٹ فارم اب صرف شارجہ یا ان کے خاندان تک محدود نہیں، بلکہ پورے خلیج اور دنیا بھر سے لوگ اماراتی زبان میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ بہت سے افراد نے ان سے کورسز کے بارے میں بھی استفسار کیا ہے۔

لامیہ الشامسی جلد ہی ایک ایسی کتاب شائع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں جس میں اماراتی الفاظ کی تصویری وضاحتیں شامل ہوں گی، اور وہ چاہتی ہیں کہ یہ کتاب اسکولوں میں تدریس کا حصہ بنے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بچوں کے لیے ایک کارٹون سیریز بھی تیار کرنا چاہتی ہیں۔

ان کی تحقیق کے مطابق اماراتی الفاظ کا 80 فیصد حصہ کلاسیکی عربی سے ماخوذ ہے، جو اس لہجے کی عربی زبان سے گہری وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔

لامیہ متعدد میڈیا پروگراموں میں شرکت کر چکی ہیں اور کئی ٹی وی چینلز کے ساتھ مل کر اماراتی لہجے کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق صرف زبان کو دستاویزی شکل دینا کافی نہیں، بلکہ ایک باقاعدہ تعلیمی نظام بھی ہونا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کو اپنی ثقافت اور زبان سے جوڑا جا سکے۔

اگرچہ ان کے زیادہ تر پیروکار 30 سال یا اس سے بڑی عمر کے ہیں، اب وہ نوجوان نسل سے رابطہ قائم کرنے کے لیے نئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی سرگرم ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نوجوانوں کو زیادہ مؤثر اور دل چسپ انداز میں شامل کرنا چاہتی ہیں۔

لامیہ الشامسی آج بھی اسی جذبے کے ساتھ اماراتی لہجے کے تحفظ میں مصروف ہیں تاکہ مقامی ثقافت آنے والی نسلوں تک بخوبی پہنچ سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button