
خلیج اردو
تورین: متحدہ عرب امارات کے ہنر مند کھلاڑیوں نے اس سال ونٹر گیمز میں ایسی تاریخ رقم کی کہ دنیا بھر کے دل جیت لیے۔ دبئی کے اسکی دبئی، ازبکستان اور اٹلی میں ایک سال تک سخت تربیت کے بعد انہوں نے 16 تمغے جیتے، جن میں 4 طلائی تمغے بھی شامل تھے، اور یوں اماراتی وفد خطے کے نمایاں ترین وفود میں شمار ہوا۔
یہ 11 کھلاڑی مختلف چیلنجز کے باوجود برف سے جڑی چھ کھیلوں میں شریک ہوئے: الپائن اسکیئنگ، سنوشوئنگ، فگر اسکیٹنگ، کراس کنٹری اسکیئنگ، سنو بورڈنگ، اور شارٹ ٹریک اسپیڈ اسکیٹنگ۔
سنوبورڈنگ میں حصہ لینے والی 23 سالہ مینا المزروعی کہتی ہیں: ’’برف پر توازن برقرار رکھنا، موڑ کاٹنا اور ڈھلوانوں پر قابو پانا آسان نہیں تھا، شدید سردی اور تھکن میں کوچز نے ہمیں حوصلہ دیا۔‘‘ وہ یاد کرتی ہیں کہ ایک لمحے پر وہ اتنی گھبرا گئیں کہ رونے لگیں، لیکن کوچ لینا نے سانس لینے کی تکنیک سکھا کر انہیں سنبھالا دیا۔
دوسری طرف، 20 سالہ سلمی السلمی نے زخمی ہونے کے باوجود مقابلہ جاری رکھا۔ وہ کہتی ہیں: ’’پاؤں کی انگلی بری طرح زخمی ہو گئی تھی، درد ناقابلِ برداشت تھا، مگر میں نے خود سے کہا، یا تو چوٹ جیتے گی یا میں۔‘‘ انہوں نے سنوشوئنگ میں چاندی اور کانسی کے تمغے جیتے۔
موٹے کہر نے بھی مسائل کھڑے کیے۔ سلمی کہتی ہیں: ’’مجھے بہتر دیکھنے کے لیے چشمہ پہننا پڑا، مگر میں رکی نہیں۔‘‘
33 سالہ زلیکہ المنصوری نے کراس کنٹری اسکیئنگ میں پہلا طلائی تمغہ جیتا۔ ان کی فیملی نے ہفتے میں دو بار راس الخیمہ سے دبئی تربیت کے لیے سفر کیا۔ ان کے مطابق: ’’لوگ کہتے تھے، صحرا سے آ کر تم کیا جیتو گی؟‘‘ لیکن ان کی جیت نے سب شکوک ختم کر دیے۔
عبداللہ النعیمی، جنہیں رابطے کی کمی کا سامنا ہے، نے سنو بورڈنگ میں شاندار کارکردگی دکھائی۔ ان کے والد کہتے ہیں: ’’شروع میں وہ سفر سے جھجک رہے تھے، لیکن میں نے کہا، یہ صرف سیر نہیں، یہ متحدہ عرب امارات کی نمائندگی ہے۔‘‘ عبداللہ نے تین دن میں سونا اور کانسی کا تمغہ جیتا۔
حمدا الحوسنی کی والدہ، جن کی بیٹی 2008 سے اسپیشل اولمپکس میں شریک ہو رہی ہیں، کہتی ہیں: ’’میں رمضان کے باعث ساتھ نہ جا سکی، لیکن ہر روز دعا کرتی رہی۔ وہ برفانی موسم میں تربیت لے کر مضبوطی سے واپس آئی۔‘‘
ابوظبی سے ام سلمی، جو پہلے رضاکار تھیں، کہتی ہیں: ’’جب میری بیٹی اسکول میں تھی تو ہم نے اولمپکس میں بطور رضاکار کام کیا۔ اسے وہ ماحول پسند آیا اور ایک ماہ میں ہی مصر جا کر سونا جیتا۔‘‘
متحدہ عرب امارات کے یہ باہمت کھلاڑی نہ صرف برف پر کامیاب ہوئے بلکہ دنیا بھر کے دلوں پر بھی راج کر گئے۔







