
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی ایک اعلیٰ سفارتکار نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ مغربی کنارے کے الحاق کی کوئی بھی کوشش ابوظہبی کے لیے سرخ لکیر ہوگی جو ابراہام معاہدوں کے مقصد اور روح کو سخت نقصان پہنچائے گی، خطے میں انضمام کے عمل کو ختم کر دے گی اور اس تنازع کے حل پر طے شدہ عالمی اتفاق رائے کو بدل دے گی، جس کے تحت دو ریاستوں کو امن، خوشحالی اور سلامتی کے ساتھ ساتھ رہنا چاہیے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پیر کے روز یہ خبر سامنے آئی کہ اسرائیل، فرانس اور دیگر ممالک کی جانب سے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے ردعمل کے طور پر مغربی کنارے کے الحاق پر غور کر رہا ہے۔
یو اے ای وزارت خارجہ کی جانب سے خلیج ٹائمز کو بھیجے گئے بیان میں سیاسی امور کی اسسٹنٹ منسٹر اور یو اے ای کی نمائندہ برائے اقوام متحدہ لانا نسیبہ نے کہا کہ آغاز غزہ میں جنگ کے خاتمے، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور اس بات کو یقینی بنانے سے ہونا چاہیے کہ حماس کو غیر مسلح کیا جائے اور وہ اب غزہ یا اس کے عوام پر قابض نہ رہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس کے بعد ایسا لائحہ عمل اپنانا ہوگا جو تنازع کے مستقبل کا رخ بدلے اور دو ریاستوں کے قیام کے لیے حقیقی راہ ہموار کرے، جس کے لیے غزہ میں قانون اور نظم و نسق کی بحالی، معتبر اور اصلاح شدہ فلسطینی حکمرانی اور غزہ اور مغربی کنارے کا دوبارہ اتحاد ضروری ہے۔
لانا نسیبہ نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ وہ الحاق کے منصوبے معطل کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتہا پسندوں کو کسی بھی حال میں خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ امن کے لیے جرات، استقامت اور تشدد کے بجائے پرامن راستہ اپنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ مغربی کنارے کا الحاق یو اے ای کے لیے سرخ لکیر ہے۔
ابراہام معاہدے، جو ستمبر 2020 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت میں طے پائے تھے، کے ذریعے یو اے ای، بحرین اور مراکش نے امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے تھے۔
نسیبہ نے یاد دلایا کہ اس وقت اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے کہا تھا کہ یہ معاہدے مشرق وسطیٰ کو ایک بہتر مستقبل کی طرف لے جانے کا آغاز ہیں، اور انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا شکریہ ادا کیا تھا کہ انہوں نے فلسطینی علاقوں کے الحاق کو روک کر مشترکہ عزم کو مضبوط کیا۔
انہوں نے کہا کہ شروع سے ہی ابوظہبی نے ابراہام معاہدوں کو فلسطینی عوام اور ان کے ایک آزاد ریاست کے قیام کی جائز خواہش کی حمایت جاری رکھنے کے ایک ذریعہ کے طور پر دیکھا تھا، اور آج بھی یہی پالیسی قائم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی منصوبے فلسطینی ریاست کے قیام کے تصور کو دفن کرنے کی ایک کوشش ہیں، جسے امارات کسی طور قبول نہیں کرے گا۔







