متحدہ عرب امارات

بریکنگ نیوز:متحدہ عرب امارات واپس آنے کے لیے نئے قوانین کا اجراء

یہ نیا قانون یکم جولائ سے نافذ العمل ہوگا

(خلیج اردو ویب ڈیسک)متحدہ عرب امارت کی وفاقی وزارت برائے ہنگامی حالات و ایمرجنسی نے یکم جولائ سے ایک نیا قانون لانے کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق ایسے تمام شہری جن کے پاس متحدہ عرب امارات کا ویزہ موجود ہے اور وہ بیرون ملک پھنسے ہوئے ہیں انہیں واپس آنے سے کم سے کم تین دن پہلے کرونا منفی ٹیسٹ لازمی درکار ہوگا ۔اس کے بغیر ان کو فلائٹ میں جانے کی اجازت نہیں ہوگی ۔وزارت کا مزید کہنا تھا کہ یہ قانون ملک میں کرونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ کیا جارہا ہے تاکہ اس وبا سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کیا جا سکے اور سفری پابندیوں کو مزید نرم کیا جاسکے۔

نئے قانون کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ایسے تمام افراد جن کے پاس واپس آنے کی اجازت موجود ہے ان کے لیےنئئ شرائط و ضوابط کا اعلان کیا ہے۔یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسے تمام افراد کو منظور شدہ لیبارٹریز سے ہی کرونا ٹیسٹ کروانا ہوگا

۔ایسی منظور شدہ لیبارٹریز دنیا کے 17 ممالک کے 106 شہروں میں موجود ہیں اور ان کی فہرست ICA کی ویب سائٹ https://beta.smartservices.ica.gov.ae سے مل سکتی ہے۔

ایسے تمام شہری جن کے پاس متحدہ عرب امارات کا ویزہ موجود ہے لیکن ان کے ملک میں تصدیق شدہ لیبارٹریز موجود نہیں انہیں وائرس کی تشخیص سے گزرنا ہوگااور تمام سکریننگ کی شرائط لاگو ہوں گی۔

واپس آنے والے تمام شہریوں کو چودہ دن لازمی زاتی قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔اس کے علاوہ انہیں تمام تشخیصی ٹیسٹ اور قرنطینہ کی سہولت کا خرچ اٹھانا ہوگا۔متحدہ عرب امارات کے ویزا والے غیر ملکی شہریوں کے آجر جب بھی ضرورت ہو اس طرح کے اخراجات برداشت کرنے کو تیار رہیں۔واپس آنے والے تمام شہری وزرات صحت کی منظور شدہ ایپلیکیشنز کو موبائل میں ڈاؤن لوڈ کریں تاکہ ان کی سرگرمیوں سے حکومت واقف رہے اور مزید لوگوں کو وائرس سے بچایا جا سکے۔

 

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button