(خلیج اردو ویب ڈیسک)انڈیا میں ایک شخص نے اپنی سگی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔باپ نے بیٹی کو نیند کی گولیاں کھلا کر یہ گھنائونی حرکت کی۔تفصیلات کے مطابق انڈین شہر بنگلور میں گزشتہ ہفتے ایک 40 سالہ شخص نے اپنی 19 سالہ بیٹی کو نیند کی گولیاں کھلا کر اپنی ہوس کا نشانہ بناڈالا۔ 23 جون کو ہونے والے اس واقعے نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کردیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ملزم نے اپنی بیٹی کو بخار سے بچاؤ کی دوا دینے کے بجائے نیند کی گولی کھلا دی اور اس کے بعد اس سے زیادتی کا مرتکب ہوا۔یہ واقعہ انڈین ریاست بنگلور کے ایک گاؤں ہرلور میں پیش آیا۔
مقامی نیوز ایجنسی کے مطابق مذکورہ لڑکی نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا کہ "گزشتہ چند روز سے وہ بخار اور کھانسی میں مبتلا تھی۔جب اس نے اس بارے میں اپنے والد کو مطلع کیا تو اس نے مجھے متعلقہ دوا دینے کے بجائے نیند کی گولیاں کھلا دیں۔اگلی صبح جب وہ بیدار ہوئ تو اس نے اپنے والد کو اپنے ساتھ سوئے ہوئے پایا اور یہ محسوس کیا کہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئ ہے”۔
وقوع کے بعد لڑکی نے اپنی سوتیلی ماں کو سارا قصہ بتایا اور مدد مانگی لیکن اس کی سوتیلی ماں نے اس کی مدد کرنے سے انکار کردیا۔لڑکی کے بیان کے مطابق اس نے ٹائلٹ صاف کرنے والے کیمیکل کو کھاکر خودکشی کرنے کی بھی کوشش کی۔
اس سارے واقعے کے بعد لڑکی بذاتِ خود پولیس اسٹیشن گئ اور اپنے ساتھ ہونے والے گھناؤنے فعل کا پولیس کو بتایا۔ساری تفصیل بتانے کے بعد مذکورہ لڑکی بے ہوش ہوکر گر پڑی اور اسے فوراً نزدیکی ہسپتال لے جایا گیا۔رپورٹ کے مطابق پولیس ابھی تک لڑکی کے ہوش میں آنے کا انتظار کررہی ہے تاکہ لڑکی کا مزید بیان لیا جاسکے۔
پولیس نے شکایت پر فوراً کاروائی کرتے ہوئے لڑکی کے والد کو گرفتار کرلیا اور لڑکی کی سوتیلی ماں کے اس سارے معاملے میں کردار کی بھی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔
اس کیس کے سامنے آنے پر انڈیا میں سوشل میڈیا پر گویا اس وقت ہنگامہ برپا ہو چکا ہے۔
ایک انڈین ٹوئٹر صارف جے پرکاش JaiPrakashAlbe2@ نے لکھا ” ہندوستان اس وقت عورتوں کے لیے بلکل غیر محفوظ بن چکا ہے اس کی وجہ انصاف کی فراہمی میں دیر اور سزائے موت کا نا ہونا ہے جس سے زیادتی کے ملزمان باآسانی بچ جاتے ہیں”.
فیس بک صارف رتویش گپتا نے لکھا "کرونا وائرس آئے گا چلا جائے گا لیکن انڈیا میں ریپ کی وبا کو قابو میں کرنے کا کوئ حل نہیں ہے”.
ایک اور ٹوئٹر صارف @sapnamadan نے لکھا کہ "پٹیالہ پنجاب میں ایک باپ اپنی گیارہ سالہ بیٹی سے تین سال تک اس کی ماں کی غیر موجودگی میں زیادتی کرتا رہا۔کیا یہی وہ وجہ ہے کہ عورتیں بیٹا ہونے کی دعا کرتی ہیں؟”.
ایک حالیہ روپورٹ کے مطابق انڈیا دنیا میں عورتوں کے لیے سب سے غیر محفوظ ممالک میں اول درجے پر براجمان ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق ہر ایک منٹ بعد ایک عورت کا ریپ کر دیا جاتا ہے۔اس میں سے اکثریتی کیس پولیس میں رپورٹ نہیں کیے جاتے بوجہ معاشرتی دباؤ۔
Source : Gulf News







